دل کا دورہ محض ایک عضو کا مسئلہ نہیں: جدید تحقیق کے حیران کن انکشافات

برسوں تک طبی سائنس میں دل کے دورے کو صرف شریانوں کی بندش اور خون کی فراہمی میں رکاوٹ (Ischemia) تک محدود سمجھا جاتا رہا۔ لیکن یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے ماہرین کی حالیہ تحقیق، جو معتبر سائنسی جریدے Cell میں شائع ہوئی، نے انکشاف کیا ہے کہ یہ محض دل کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک “سیسٹمک ایونٹ” ہے جس میں پورا جسمانی نظام شامل ہو جاتا ہے۔

​’تین گنا دائرہ’ (The Triple Loop): دل، دماغ اور مدافعتی نظام کا تعلق
​محققین نے دریافت کیا ہے کہ دل کا دورہ پڑتے ہی جسم میں ایک پیچیدہ زنجیر نما ردِعمل شروع ہوتا ہے جسے انہوں نے “تین گنا دائرہ” قرار دیا ہے۔ یہ دائرہ درج ذیل تین نظاموں پر مشتمل ہے:
​دل (The Sensor): دل کے اندر موجود حسی اعصابی خلیے (Sensory Neurons) خطرے کو محسوس کرتے ہیں۔
​دماغ (The Processor): یہ سگنلز عصبِ واگس (Vagus Nerve) کے ذریعے دماغ تک پہنچتے ہیں۔ دماغ اسے ایک “بڑی چوٹ” تصور کرتا ہے۔
​مدافعتی نظام (The Responder): دماغ کے حکم پر مدافعتی نظام فوری طور پر فعال ہو جاتا ہے اور خون کے سفید خلیات متاثرہ جگہ کی طرف بھیجتا ہے۔

مدافعتی نظام: محافظ یا دشمن؟
​تحقیق کے مطابق، اصل مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب مدافعتی نظام ضرورت سے زیادہ متحرک (Overactive) ہو جاتا ہے۔ چونکہ دل کا دورہ کسی بیرونی جراثیم کی وجہ سے نہیں ہوتا، اس لیے مدافعتی نظام کا یہ شدید ردِعمل “غلط نشانے” پر ہوتا ہے۔
​یہ ردِعمل دل کے بافتوں (Tissues) میں شدید سوزش (Inflammation) پیدا کرتا ہے۔
​یہی سوزش دل کے دورے کے بعد ہونے والے مستقل نقصان اور “ہارٹ فیلر” کی بڑی وجہ بنتی ہے۔
​علاج کے نئے افق: زلزلے کے مرکز کو روکنا
​موجودہ علاج جیسے اینجیو پلاسٹی یا اسٹنٹ، صرف بند شریان کو کھولنے پر توجہ دیتے ہیں۔ مگر یہ نئی تحقیق علاج کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتی ہے:
​اعصابی مداخلت: اگر دماغ کو بھیجے جانے والے “خطرناک سگنلز” کو عارضی طور پر روک دیا جائے، تو مدافعتی نظام کی تباہ کن سوزش سے بچا جا سکتا ہے۔
​تجرباتی کامیابی: حیوانی نمونوں پر کیے گئے تجربات میں جب اس “اعصابی دائرے” کو توڑا گیا، تو دل کو پہنچنے والا نقصان نمایاں طور پر کم پایا گیا۔
​ماہرین کی رائے: “ہمیں دل کے دورے کو زلزلے کی طرح دیکھنا چاہیے۔ روایتی علاج زلزلے کے مرکز (دل) کو سنبھالتا ہے، جبکہ یہ نئی تکنیک اس کے جھٹکوں (Aftershocks) کو باقی جسم میں پھیلنے سے روکے گی۔”

​مستقبل کی امید
​یہ دریافت مستقبل میں ایسی ادویات کی تیاری میں مدد دے گی جو دل کے مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران دی جا سکیں گی تاکہ ان کا دماغ اور مدافعتی نظام دل کو مزید نقصان نہ پہنچائے۔ یہ روایتی علاج کے متبادل نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک مددگار (Adjunct therapy) کے طور پر استعمال ہوں گی، جس سے اموات کی شرح میں واضح کمی کی امید ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں