اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملک کی معاشی اور توانائی کے شعبے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اہم ترین اور تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ جہاں بجلی اور گیس کا مجموعی گردشی قرضہ (Circular Debt) تاریخی سطح پر پہنچ گیا ہے، وہیں ملک کا مجموعی بیرونی قرضہ بھی 137 ارب ڈالر سے بڑھ چکا ہے۔
گردشی قرضوں میں ہوش ربا اضافہ

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ صرف بجلی اور گیس کے شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ 5100 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
موازنے کے لیے بتایا گیا کہ گزشتہ برس یہ قرض تین ہزار 500 ارب روپے تھا، جو ایک سال کے دوران تیزی سے بڑھ کر اب پانچ ہزار 100 ارب روپے کی سطح کو چھو رہا ہے۔ توانائی کے شعبے کا یہ قرض ملکی مالیاتی نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
ملک کا مجموعی بیرونی قرض
اجلاس میں ملک پر واجب الادا بیرونی قرضوں کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔ بریفنگ کے مطابق، اس وقت پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ 137 ارب 56 کروڑ ڈالر ہے۔
معاشی صورتحال اور “غیر مستحکم استحکام”
اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے لیے ملکی معاشی صورتحال، مالی ترجیحات، آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کی کارکردگی اور بنیادی اصلاحات کی ضروریات پر خصوصی توجہ دی گئی۔
معاشی حکام نے بریفنگ کے دوران اعتراف کیا کہ اگرچہ بتدریج معاشی بحالی کے آثار موجود ہیں، لیکن پاکستان اب بھی “غیر مستحکم استحکام” کے راستے پر گامزن ہے۔
مالی سال 2026-27 کے لیے جی ڈی پی نمو کی شرح 3.5 فیصد سے 4.5 فیصد کے درمیان متوقع ہے، جبکہ مہنگائی دوبارہ دو ہندسوں میں داخل ہو چکی ہے۔ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ٹیکس پالیسی اور سماجی دباؤ پر تشویش
قائمہ کمیٹی نے حکومت کی جانب سے ٹیکس بیس بڑھانے کے بجائے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی پر مسلسل انحصار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے گردشی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، سرکاری اداروں میں اصلاحات کی سست رفتار، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے باعث عوام پر بڑھتے ہوئے سماجی و معاشی دباؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔





