اسرائیل نے اپنے آقا کی بات نہ مانی تو ایران ان کو سبق سکھائے گا، عباس عراقچی

​تہران / تل ابیب (ویب ڈیسک): ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے معاہدے کو نظرانداز کیا تو ایران اسے سبق سکھائے گا۔
​”امریکی صدر اپنے پالتوؤں کو لگام دیں
​سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک آفیشل بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت انتہائی واضح ہے اور سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا:
​”امریکی صدر نے تل ابیب میں اپنے پالتوؤں کو لگام دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اگر وہ اپنے مالک کی بات کو نظر انداز کرتے ہیں، تو پھر ایران ان کو سبق سکھانے کے لیے تیار ہے۔”

​عباس عراقچی نے مزید واضح کیا کہ اگر ایران کے عوام، خودمختاری یا قیادت کو کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ لاحق ہوا، تو تہران کی جانب سے فوری، فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع کا دھمکی آمیز بیان
​اس سے قبل، اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے تل ابیب میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی سفارتی کوششوں کے باوجود اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران پر دو دفعہ احتیاطی طور پر حملے کر چکے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو تیسری دفعہ بھی نشانہ بنائیں گے۔
​جب اسرائیلی وزیرِ دفاع سے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں قتل کرنے کے لیے نشانہ بنایا گیا تھا۔
​جوہری پروگرام پر اسرائیل کا موقف
​مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ ایرانی اچھے سودے باز ہیں اور مذاکرات میں رعایتیں لینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اسرائیل کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔ اگر انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو پھر انہیں سب کچھ معاہدے کے تحت کرنا ہوگا، ورنہ اسرائیل کارروائی کا حق رکھتا ہے

خیبرپختونخوا میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچے جاں بحق، مدرسے کی 20 سے زائد طالبات زخمی

اپنا تبصرہ بھیجیں