ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے اور جدید لڑاکا طیارہ پسپا کرنے کا دعویٰ، خلیج فارس میں شدید کشیدگی

تہران(نیوز ڈیسک) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری تصادم میں ایک بار پھر شدید تیزی آ گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ملکی فضائی حدود اور جاری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی طیاروں کی بڑی دراندازی کو ناکام بناتے ہوئے ایک جدید ترین امریکی ڈرون کو مار گرایا ہے جبکہ جدید ترین لڑاکا طیارے کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔

​خلیج فارس میں امریکی MQ-9 ڈرون تباہ
​پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے جاری کردہ باقاعدہ سرکاری بیان کے مطابق، ایران کی فضائی دفاعی یونٹس (Air Defense Units) نے درست انٹیلی جنس مانیٹرنگ اور الرٹ سسٹم کی مدد سے خلیج فارس کے حساس علاقے میں امریکی جاسوس ڈرون ایم کیو 9 (MQ-9 Reaper) کا پتہ لگایا۔ ہدف کی نشاندہی ہوتے ہی ایرانی دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے اس امریکی ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
​جدید ترین F-35 لڑاکا طیارے پر فائرنگ
​سرکاری بیان میں سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ آپریشن صرف ایک ڈرون کو گرانے تک محدود نہیں رہا۔ ایرانی فضائی دفاع نے اسی علاقے میں موجود ایک اور امریکی RQ-4 گلوبل ہاک ڈرون اور امریکہ کے جدید ترین F-35 ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے کو بھی نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے بعد امریکی لڑاکا طیارہ اور دوسرا ڈرون فوری طور پر پسپائی اختیار کرتے ہوئے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
​جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایران کی سخت وارننگ
​ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے موجودہ جنگ بندی معاہدے کی کسی بھی قسم کی “خلاف ورزی” پر امریکہ کو سخت ترین انتباہ جاری کیا ہے۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ:
​”ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے حق کو اپنی اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل رکھتی ہیں۔ ایرانی سرزمین یا فضائی حدود میں کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں ہمارا ردعمل ‘جائز اور حتمی’ ہوگا۔”
​واضح رہے کہ امریکی سینٹ کام کی جانب سے جنوبی ایران پر حملوں کے دعوے کے بعد، تہران کی جانب سے یہ جوابی دعویٰ سامنے آیا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی افواج اپنی علاقائی حدود میں دشمن کی کسی بھی فضائی نقل و حرکت کا جواب دینے کے لیے اس وقت انتہائی چوکس اور ہائی الرٹ حالت میں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں