روسی سرحد کے قریب برطانوی وزیرِ دفاع کے طیارے کا جی پی ایس جام، ہائی ٹیک سائبر حملے کا انکشاف

​لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) روسی سرحد کے قریب پرواز کے دوران برطانوی وزیرِ دفاع کے فوجی طیارے پر مبینہ الیکٹرونک حملہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں طیارے کا اہم ترین نیوی گیشن سسٹم (GPS) اور مواصلاتی نظام مکمل طور پر جام ہو گیا۔ برطانوی پائلٹس نے انتہائی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متبادل نظام کے ذریعے طیارے کو بحفاظت نکال لیا۔


​دورۂ اسٹونیا سے واپسی پر سگنل جامنگ کا سامنا
​بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، برطانوی وزیرِ دفاع اسٹونیا کا اہم سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد اپنے شاہی فوجی طیارے میں وطن واپس جا رہے تھے۔ جیسے ہی ان کا طیارہ روسی سرحد کے قریبی فضائی حدود سے گزرا، اسے شدید سگنل جامنگ اور الیکٹرونک مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔
​تین گھنٹے تک جی پی ایس، موبائل اور لیپ ٹاپ بند رہے
​رپورٹ کے مطابق یہ الیکٹرونک حملہ اتنا شدید تھا کہ:
​طیارے کا مرکزی جی پی ایس (GPS) اور الیکٹرونک نظام مسلسل تین گھنٹے تک مکمل طور پر معطل رہا۔
​سگنل جامنگ کے باعث طیارے کے اندر موجود عملے اور وفد کے موبائل فونز اور لیپ ٹاپس نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا اور انٹرنیٹ کنکشن منقطع ہو گیا۔
​پائلٹس کی مہارت اور متبادل سسٹم کا استعمال
​اس ہنگامی اور خطرناک صورتحال کے دوران برطانوی پائلٹس نے فوری ایکشن لیا۔ طیارے کی درست سمت اور راستے کا تعین کرنے کے لیے پائلٹس نے روایتی اور متبادل نیوی گیشن سسٹم (Alternative Navigation System) کا استعمال کیا اور وزیرِ دفاع سمیت تمام وفد کو بحفاظت منزل کی طرف لے جانے میں کامیاب رہے۔
​اگرچہ برطانوی حکام نے سرکاری طور پر براہِ راست کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم روسی سرحد کے عین قریب ہونے والے اس ہائی ٹیک الیکٹرونک حملے کو سیکیورٹی ماہرین کریملن (روس) کی جانب سے نیٹو (NATO) ممالک کے لیے ایک سخت وارننگ قرار دے رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں