اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مروجہ نظام میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق اب اوگرا (OGRA) روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور عالمی منڈی کا تمام اتار چڑھاؤ روزانہ ہی عوام کو منتقل کیا جائے گا۔

عالمی منڈی میں ڈیزل 140 ڈالر تک پہنچ گیا
وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر شدید اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں توانائی کے نرخ بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ چند دنوں میں عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
پیٹرولیم سیکٹر ‘ڈی ریگولیشن’ کی طرف گامزن
علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کو مکمل طور پر ڈی ریگولیشن کی طرف لے کر جا رہی ہے۔ اب اوگرا روزانہ کی بنیاد پر عالمی مارکیٹ کو مدنظر رکھ کر قیمتیں طے کرے گا اور انہیں روزانہ اپنی آفیشل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی کی سطح اس وقت پہلے سے کم ہے اور حکومت نے 130 ارب روپے کے وسائل استعمال کر کے عوام کو ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسابقتی قیمت پر عوام کو تیل کی فراہمی کے لیے ملکی انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا رہا ہے، اور تاریخ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کو سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو کھلی چھوٹ نہیں: عطا تارڑ

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کے باوجود حکومت کی بہتر حکمتِ عملی کی وجہ سے ملک میں توانائی کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔ انہوں نے مختلف ممالک سے بروقت کارگو منگوا کر اضافی ذخائر کا بندوبست کیا۔
آئل کمپنیوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے وزیرِ اطلاعات نے کہا:
”آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو کسی صورت کھلی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ کمپنیوں پر اس وقت جتنی سختی ہے، پہلے کبھی نہیں تھی۔ کسی کو بھی ناجائز منافع خوری یا ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں ہوگی اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں یہی نظام رائج ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری طور پر منتقل کی جاتی ہیں، جس سے نظام میں شفافیت آتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے جنہیں عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔





