اسلام آباد (سوچ ٹی وی رپورٹ) پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت نے ممکنہ حفاظتی خطرات کے باعث زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہوں اور خفیہ مقامات میں پناہ لے لی ہے۔ سلامتی اور علاقائی ذرائع کے مطابق حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد طالبان حکومت کے اہم رہنما محدود نقل و حرکت کے ساتھ سخت حفاظتی انتظامات کے تحت کام کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر اس وقت قندھار میں انتہائی سخت حفاظتی حصار میں موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کے لیے قندھار میں تین مختلف قلعہ نما عمارات مخصوص کیے گئے ہیں جن کے نیچے مضبوط زیرِ زمین پناہ گاہیں قائم ہیں۔ حفاظتی حکمتِ عملی کے تحت وہ وقتاً فوقتاً ان مختلف مقامات کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی نگرانی یا سراغ رسانی سے بچا جا سکے۔
افغان طالبان حکومت کے نائب وزیرِاعظم کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بھی ابتدائی طور پر قندھار کی ایک محفوظ پناہ گاہ میں منتقل ہوئے تھے تاہم حالیہ اطلاعات کے مطابق انہیں حفاظتی اقدامات کے تحت افغانستان کے اندرونی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔
اسی طرح طالبان کے وزیر دفاع کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ الگ حفاظتی مقام پر منتقل کر دیے گئے ہیں اور ان کی نقل و حرکت انتہائی محدود کر دی گئی ہے۔
افغانستان کے وزیر خارجہ، نائب وزیرِاعظم اور وزیر اعظم کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کابل میں زیرِ زمین حفاظتی پناہ گاہوں میں منتقل رہے جہاں سے حکومتی امور محدود انداز میں جاری رکھے گئے۔
طالبان حکومت کے ترجمان کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے بھی اپنا دفتر چھوڑ کر کچھ عرصہ زیرِ زمین محفوظ مقام سے میڈیا بریفنگ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بیانات جاری کیے۔
طالبان پناہ گاہوں کی ساخت اور حفاظتی نظام
سلامتی کے ذرائع کے مطابق طالبان قیادت کے زیر استعمال یہ پناہ گاہیں عام جگہیں نہیں بلکہ مضبوط دفاعی تنصیبات ہیں۔ ان پناہ گاہوں میں تقریباً تین سے چار میٹر موٹے مضبوط کنکریٹ کی چھتیں، ہوا کی صفائی کا نظام، علیحدہ بجلی پیدا کرنے والے آلات، زیرِ زمین بصری ریشوں پر مبنی مواصلاتی جال، خوراک اور پانی کے ذخائر، طبی سہولیات اور اسلحہ رکھنے کے مخصوص حصے موجود ہوتے ہیں۔
بعض پناہ گاہیں سابقہ سوویت دور کی زیرِ زمین تنصیبات کو جدید بنا کر تیار کی گئی ہیں جبکہ کچھ نئی پناہ گاہیں حالیہ برسوں میں تعمیر کی گئی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ان پناہ گاہوں کا مقصد ممکنہ فضائی حملوں یا بغیر پائلٹ طیاروں کی نگرانی سے قیادت کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔

نئی اطلاعات: کچھ رہنما ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اندرون صوبوں میں منتقل ہوگئے ہیں
افغان میڈیا اور علاقائی ذرائع کے مطابق تازہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کو کابل سے بالی طیاروں (ہیلی کاپٹروں) کے ذریعے وسطی افغانستان کے صوبے منتقل کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق کم از کم چار بالی طیارے اس منتقلی کے لیے استعمال ہوئے اور یہ کچھ وقت تک وہاں موجود رہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض حکومتی اہلکار اس سے پہلے وسطی افغانستان کے دیگر نسبتاً محفوظ علاقوں کی طرف بھی منتقل کیے گئے تھے۔
سلامتی کے تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کے یہ وسطی صوبے جغرافیائی طور پر نسبتاً دور دراز اور پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہیں جس کی وجہ سے انہیں ہنگامی صورتحال میں عارضی محفوظ مقامات کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
علاقائی صورتحال
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ سرحد پار موجود شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں ملکی سلامتی کے تناظر میں کی جا رہی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کئی مرتبہ افغان حکام سے سرحدی علاقوں میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر چکا ہے۔
علاقائی سفارتی ذرائع کے مطابق موجودہ کشیدگی کے باعث مختلف ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے رابطے کر رہے ہیں،
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان قیادت کی زیرِ زمین منتقلی اور بعض عہدیداروں کا اندرونی صوبوں میں منتقل ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں افغان حکام نے اپنی حفاظتی حکمت عملی مزید سخت کر دی ہے





