لوگ تھک گئے ہیں

وہ خود کو استاد نہیں کہتا تھا، مگر شہر کے لوگ اسے “سر” کہہ کر پکارتے تھے۔ اس کا اصل نام شاید کسی رجسٹر میں درج ہوگا، مگر شاگردوں کے حافظے میں وہ ایک کیفیت کی طرح محفوظ تھا ایک ایسا آدمی جو کمرہ جماعت میں داخل ہوتا تو محسوس ہوتا جیسے کسی بند کمرے کی کھڑکی اچانک کھل گئی ہو۔ 
 یونیورسٹی کے پہلے سال میں سٹوڈنٹس اس شخص سے ملے۔

پہلے دن اسے دیکھا تو حیران رہ گئے۔ نہ وہ روایتی استادوں جیسا تھا، نہ اس کے لہجے میں وہ خشک پن تھا جو کتابوں کے بوجھ تلے دبے لوگوں میں آ جاتا ہے۔ اس نے حاضری لگانے کے بجائے صرف ایک سوال کیا: اگر تمہیں بتایا جائے کہ تمہاری سوچ بھی تمہاری اپنی نہیں، تو تم کیا کرو گے؟
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔
پھر وہ مسکرایا اور بولا، چلو، آج نفسیات پڑھتے ہیں لیکن ذرا زندگی کے راستے سے ہو کر۔ وہ نفسیات پڑھاتا ضرور تھا، مگر اس کی کلاس کبھی صرف نفسیات کی کلاس نہیں ہوتی تھی۔ کبھی وہ یونانی دیوتاؤں کے قصے چھیڑ دیتا، کبھی سیاست کے اندھیروں میں اتر جاتا وہ کہتا:تم لوگ ایک ایسی دنیا میں رہتے ہو… اور تمہیں لگتا ہے یہی پوری کائنات ہے۔ وہ سائنس فکشن کی کسی کہانی کا حوالہ دیتا اور واپس آ کر انسانی ذہن کی کسی معمولی سی حرکت کو سمجھاتا اور آخر میں گفتگو کا دروازہ کسی اور جہان میں کھول دیتا۔
سٹوڈنٹس اکثر کہتے، سر کے ساتھ بیٹھو تو لگتا ہے دنیا ایک نہیں، کئی ہیں… اور ہر دنیا میں روشنی الگ جلتی ہے۔ وہ ہنستا اور کہتا، جب یہ روشنیاں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں نا… تب زندگی پیدا ہوتی ہے۔ مگر اس کی باتوں میں ایک سایہ بھی تھا، ایک اندیشہ، جو وقت کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا تھا۔
ایک دن اس نے کلاس میں خاموشی سے کہا:ہم ایک نئے عہد کی طرف جا رہے ہیں۔ کسی نے پوچھا، سر، کیسا عہد؟وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بولا: یہ وہ پرانا مذہبی جبر نہیں ہوگا مگر اس جیسی فضا ہوگی۔ یہاں طاقت فیصلہ کرے گی کہ سچ کیا ہے، جھوٹ کیا ہے… اور کون سا خیال، خیال کہلانے کے قابل بھی نہیں۔”کلاس میں کچھ طلبہ نے اسے مبالغہ سمجھا، کچھ نے فلسفہ۔
وہ آگے بولا:“چرچ اور مذہب کا مرکز ختم نہیں ہوا… اس نے شکل بدل لی ہے۔ اب وہ میڈیا ہے۔ خطبوں کی جگہ ٹاک شوز ہیں۔ شور اتنا ہوگا کہ تمہیں لگے گا سچ بول رہا ہے حالانکہ سچ وہ ہوگا جو تمہیں دکھایا جائے گا۔ لوگ اسکرین کے سامنے بیٹھ کر فیصلے کریں گے جیسے وہ خود وہاں موجود ہوں۔ مگر وہ صرف ایک تصویر دیکھ رہے ہوں گے، اور تصویر کے پیچھے کہانی کوئی اور لکھ رہا ہوگا۔
وقت گزرتا گیا۔
ایک دن کسی نے پوچھا، “سر! سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ جہالت؟”
وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا: نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ جاہل ہو گئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے لوگ تھک گئے ہیں۔
“تھک گئے؟”
“اتنے تھک گئے کہ اب ہر خبر کو گزر جانے دیتے ہیں۔ ہر ظلم کو ایک معمولی واقعہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ انسان کی موت ان کے لیے ایسے ہوگئی ہے جیسے سڑک سے کوئی گاڑی گزر جائے۔”
کلاس میں سناٹا تھا۔
“جب احتجاج کی توانائی ختم ہو جائے اور احتجاج بھی سپانسرڈ ہو جائے تو سمجھ لو معاشرہ عہدِ تار میں داخل ہو چکا ہے۔ خاموشی سے… بغیر کسی اعلان کے۔” پھر ایک دن وہ آنا بند ہو گیا۔ کوئی باضابطہ الوداع نہیں، کوئی آخری لیکچر نہیں۔ بس ایک دن وہ نہیں آیا اور پھر کبھی نہیں آیا۔ یونیورسٹی نے اس کی جگہ کسی اور کو رکھ لیا۔ نصاب وہی رہا، کتابیں وہی رہیں، مگر کلاس روم میں وہ دروازہ بند ہوچکا تھا جو کبھی کھلتا تھا تو زندگی اندر آجاتی تھی۔
طلبا نے تب محسوس کیا کہ وہ صرف استاد نہیں تھا۔
وہ ایک آئینہ تھا۔ایسا آئینہ جس میں لوگ اپنے زمانے کا چہرہ دیکھ لیتے تھے۔
سال گزر گئے۔
ہر سٹوڈنٹ خود زندگی کی دوڑ میں شامل تھا۔ ان کے ہاتھ میں بھی ایک اسکرین تھی، اور اردگرد بھی وہی شور تھا جس کا ذکر برسوں پہلے سنا تھا۔
خبریں آتی تھیں۔ گزرتی تھیں۔لوگ مرتے تھے اور زندگی آگے بڑھ جاتی تھی۔
اختلاف جرم بنتا جا رہا تھا۔ شناختیں ہتھیار بن رہی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے کو انسان سمجھنے سے پہلے اس کا قبیلہ پوچھتے تھے۔
ایک دن سب نے اچانک خود سے کہا: “یہی تو وہ دور ہے…”وہ دل ہی دل میں اس استاد سے مخاطب ہوئے جو اب کہیں نہیں تھا یا شاید ہر جگہ تھا۔
“سر، آپ ٹھیک کہتے تھے۔ ہم اسی عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں روشنی بھی دھندلی ہے اور ہوا بھی بوجھل۔” انہیں یوں لگا جیسے کہیں دور، کسی پرانی کلاس روم میں، وہ شخص اب بھی بیٹھا مسکرا رہا ہو۔
اور کہہ رہا ہو:
“میں نے تمہیں بتایا تو تھا… مسئلہ دیکھنے کا نہیں، پہچاننے کا ہے۔”

نوٹ: درج ذیل کالم مصنف کی ذاتی رائے ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں