آخری سانس کا کمرہ

بچپن میں میرے ذہن میں ایک سوال نے پہلی بار اسی دن جنم لیا تھا، جب میں صرف دس برس کا تھا۔
ہسپتال کے اس سفید کمرے میں میری دادی لیٹی ہوئی تھیں۔ مجھے اندر جانے سے روک دیا گیا تھا۔ میں دروازے کے باہر کھڑکی کی جالی سے چہرہ لگا کر اندر جھانک رہا تھا۔ ڈاکٹر نے آہستہ سے میرے والد، پھوپھو اور دوسرے بڑوں سے کچھ کہا اور پھر یکایک سب کے چہرے بکھر گئے۔ کسی نے منہ پر ہاتھ رکھا، کوئی دیوار سے لگ گیا، اور کسی کے ضبط نے وہیں دم توڑ دیا۔
اسی لمحے مجھے محسوس ہوا جیسے دادی کی سانس رک گئی ہو۔ میں اُس وقت موت کا مطلب نہیں جانتا تھا، مگر رونے کی آوازیں سمجھ گیا تھا۔
کچھ آوازیں انسان کو عمر بھر کے لیے بڑا کر دیتی ہیں۔
پھر ایک دن نانی کو ہسپتال سے گھر لایا گیا۔ سٹریچر کمرے میں داخل ہو رہا تھا کہ ان کا بازو نیچے لڑھک گیا۔ میں نے فوراً جھک کر وہ ہاتھ اوپر رکھا۔ وہی ہاتھ جو بچپن میں میرے سر پر دعا بن کر رکھا جاتا تھا، آج برف کی طرح سرد اور بے جان تھا۔
انسان پہلی بار موت کو چھوتا ہے تو صرف ہاتھ نہیں کانپتے، اندر کی پوری دنیا لرز جاتی ہے۔ پھر زندگی نے وہ دن بھی دکھایا جس کا تصور بھی انسان اپنے ذہن میں نہیں لانا چاہتا۔
میری والدہ آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ ڈاکٹر جواب دے چکے تھے۔ میں دو راتوں سے جاگ رہا تھا۔ آنکھوں میں نیند نہیں، صرف خوف تھا۔ بھائی ضد کرکے مجھے کچھ دیر گھر لے آیا۔ شاید وہ چاہتا تھا میں تھوڑا سنبھل جاؤں۔ مگر پھر فون آیا… اور میں واپس دوڑا۔
بعض خبریں انسان کے کانوں سے نہیں، سیدھا اس کی روح میں داخل ہوتی ہیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے، اس لمحے یوں لگا جیسے ٹانگوں سے اچانک جان نکل گئی ہو۔ جیسے زمین نے قدموں کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ تب پہلی بار سمجھ آیا کہ انسان کے اندر سے روح کے جانے کا احساس شاید کیسا ہوتا ہوگا۔
دو سال بعد میں نے اپنے بڑے بھائی کو پوری رات اپنی آنکھوں کے سامنے موت کی طرف بڑھتے دیکھا۔ ہر سانس جیسے ایک جنگ تھی۔ ہر لمحہ امید اور شکست کے درمیان معلق۔ پھر ڈاکٹر نے آ کر وہی جملہ کہا جو ہسپتالوں میں اکثر زندگی کے اختتام پر بولا جاتا ہے: “اب دعا کریں۔ اللہ کی رضا یہی ہے۔” کچھ جملے کبھی پرانے نہیں ہوتے۔ وہ وقت گزر جانے کے بعد بھی انسان کے اندر بولتے رہتے ہیں۔
میرے سسر شاید ان چند خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جنہیں ڈاکٹر کے جواب دینے کے بعد گھر لے آیا گیا۔ وہ اپنے کمروں، اپنی دیواروں، اپنے لوگوں کے درمیان رخصت ہوئے۔ ان کے گرد اجنبیت نہیں تھی۔ مشینوں کی آوازیں نہیں تھیں۔ صرف اپنے تھے، دعائیں تھیں، اور ایک مانوس چھت تھی۔
میرے والد…
وہ بھی ہسپتال کے بیڈ پر اپنے آخری سفر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ مگر ان کی آنکھوں میں ایک خوف تھا ہسپتال کا خوف۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ اگر جانا ہے تو اپنے گھر سے جاؤں۔ اپنی دیواروں کے درمیان۔ اپنے لوگوں کے درمیان۔ مگر ہم ان کی یہ آخری خواہش پوری نہ کر سکے۔
آج بھی یہ خیال سینے میں ایک بوجھ کی طرح اترتا ہے کہ انسان پوری زندگی گھر بنانے میں گزار دیتا ہے، مگر اس کی آخری سانس اکثر کسی اجنبی کمرے میں نکلتی ہے۔ سفید دیواروں، مشینوں کی آوازوں اور جراثیم کش ادویات کی بو کے درمیان۔
آخر کیوں؟
کیوں انسان کا آخری سفر اکثر اُس جگہ سے شروع نہیں ہوتا جہاں اس نے اپنی پوری زندگی گزاری؟ جہاں اس کی ہنسی بسی ہوتی ہے، جہاں اس کے بچوں کی آوازیں دیواروں میں محفوظ ہوتی ہیں، جہاں اس کی دعائیں، اس کی تھکن، اس کی محبتیں سانس لیتی ہیں۔
ہم زندگی بھر اپنوں کے درمیان جینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر موت اکثر ہمیں اپنوں سے دور لے جا کر آتی ہے۔
اور شاید اسی لیے ہسپتال کے کمرے مجھے ہمیشہ اداس لگتے ہیں۔ وہ صرف بیماری کے کمرے نہیں ہوتے، وہ ادھورے الوداع کے کمرے ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں