اپناگھر پروگرام:ایک کروڑ روپےتک قرض کن کو مل سکتاہے؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت نے ملک میں رہائشی بحران کے خاتمے اور متوسط طبقے کو چھت فراہم کرنے کے لیے ’وزیراعظم اپنا گھر پروگرام 2026‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اسکیم کی سب سے بڑی خاص بات یہ ہے کہ اس بار سمندر پار (اوورسیز) پاکستانیوں کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا ہے۔


قرض کی حد اور گھروں کا ہدف
​حکومت نے اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 5 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا ہے۔ شہری اپنی مالی ضرورت کے مطابق بینکوں کے تعاون سے قرض حاصل کر سکتے ہیں:
​کم از کم قرض: 25 لاکھ روپے
​زیادہ سے زیادہ قرض: 1 کروڑ روپے
​انتہائی کم شرح سود اور واپسی کی مدت
​عوام پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت نے مارک اپ کی شرح کو انتہائی پرکشش رکھا ہے:
​پہلے 10 سال: صرف 5 فیصد فکسڈ شرح سود۔
​10 سال بعد: اس وقت کے مارکیٹ ریٹ کے مطابق شرح ایڈجسٹ کی جائے گی۔

واپسی کی مدت: قرض کی واپسی کے لیے 20 سال کا طویل عرصہ دیا گیا ہے تاکہ ماہانہ قسط بوجھ نہ بنے۔
​درخواست دینے کے لیے کون اہل ہے؟
​اس اسکیم میں اہلیت کا دائرہ کار بہت وسیع رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں:
​سرکاری و نجی ملازمین: اپنی سیلری سلپ کی بنیاد پر درخواست دے سکتے ہیں۔
​کاروباری حضرات و فری لانسرز: گزشتہ 6 ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ یا ٹیکس ریٹرن کو آمدنی کے ثبوت کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔
​اوورسیز پاکستانی: نائیکوپ (NICOP) اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے درخواست دینے کے اہل ہیں۔
درخواست کا طریقہ اور منظوری کا وقت
​حکومت نے پورے عمل کو شفاف اور تیز رفتار بنانے کے لیے اسے مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا ہے:
​آن لائن پورٹل: امیدوار آفیشل ویب سائٹ [apnaghar.gov.pk] پر جا کر فارم پر کر سکتے ہیں۔
​ٹائم لائن: تمام دستاویزات کی تصدیق کے بعد محض 30 دن کے اندر قرض کی منظوری کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

ماہرین کی رائے: چیلنجز اور توقعات
​اگرچہ یہ منصوبہ انتہائی پرکشش ہے، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی اسکیموں کی طرح اس بار بھی اصل چیلنج ‘عملدرآمد’ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ تعمیراتی ہدف کو وقت پر مکمل کرے اور بینکوں کے ساتھ مل کر سود کی شرح کو مستقبل میں بھی مستحکم رکھے تاکہ عام آدمی کا اپنے گھر کا خواب ادھورا نہ رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں