پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کا 35 فیصد ٹیکسوں کی نذر؛ صارفین فی لیٹر 145 روپے ٹیکس دے رہے ہیں
اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ صارفین پیٹرول کی ہر لیٹر خریداری پر تقریباً 145 روپے صرف ٹیکسوں اور لیویز کی مد میں ادا کر رہے ہیں۔

دبئی میں قائم مشاورتی ادارے ‘ماؤنٹین ونچرز’ نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارتِ توانائی کے سرکاری اعداد و شمار کی روشنی میں ایک تفصیلی تجزیہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق 9 مئی 2026 سے نافذ العمل قیمتوں میں پیٹرول کی زیادہ سے زیادہ ڈیپو قیمت 414.78 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔ اس قیمت کا 34.8 فیصد حصہ (یعنی 144.26 روپے) مختلف ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔
ٹیکسوں کی تفصیلات:
رپورٹ کے مطابق پیٹرول پر عائد ٹیکسوں میں سب سے بڑا بوجھ ‘پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی’ (PDL) کا ہے جو 117.41 روپے فی لیٹر وصول کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ فی لیٹر قیمت میں 24.35 روپے کسٹمز ڈیوٹی اور 2.50 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔
اگر پیٹرول کی اصل قیمت (Basic Cost) دیکھی جائے تو وہ 246.76 روپے فی لیٹر ہے، جو ریٹیل قیمت کا 59.5 فیصد بنتی ہے۔ بقیہ اخراجات میں مارکیٹنگ اور تقسیم کے لیے 23.76 روپے (5.7 فیصد) رکھے گئے ہیں، جس میں او ایم سیز (OMCs) کا مارجن 7.87 روپے، ڈیلرز کمیشن 8.64 روپے اور ان لینڈ فریٹ ایکوئلائزیشن مارجن (IFEM) 7.25 روپے شامل ہے۔

ڈیزل کی قیمت کا ڈھانچہ:
ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی فی لیٹر قیمت 414.58 روپے ہے، جس میں ایندھن کی اصل لاگت 314.16 روپے (75.8 فیصد) ہے۔ ڈیزل پر ٹیکسوں کا بوجھ پیٹرول کے مقابلے میں کم ہے، جہاں صارفین مجموعی طور پر 76.16 روپے (18.4 فیصد) ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ اس میں 42.60 روپے پی ڈی ایل، 31.06 روپے کسٹمز ڈیوٹی اور 2.50 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔ ڈیزل کی مارکیٹنگ اور تقسیم کے اخراجات 24.27 روپے فی لیٹر ہیں۔
پیٹرول اور ڈیزل کا موازنہ:
تجزیاتی رپورٹ میں یہ اہم نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین پر ڈیزل کے مقابلے میں ٹیکس کا بوجھ تقریباً دوگنا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پیٹرول پر ڈیزل کے مقابلے میں 68 روپے فی لیٹر زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ پیٹرول پر عائد بھاری پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ہے





