کراچی: منشیات اسمگلنگ کے ہائی پروفائل کیس میں گرفتار بدنام زمانہ ملزمہ انمول عرف پنکی کی سٹی کورٹ کراچی اور ملیر کورٹ میں پیشی کے دوران شدید ڈرامائی مناظر دیکھنے کو ملے۔ ملزمہ نے چہرہ ڈھانپ کر سخت سکیورٹی میں عدالت لائے جانے پر شدید چیخ و پکار کی، پولیس پر بیانات دینے کے لیے دباؤ ڈالنے اور تشدد کے الزامات عائد کیے۔ دوسری جانب ملیر کورٹ نے سچل تھانے کے ایک مقدمے میں ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے جسے پراسیکیویشن نے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عدالت میں پنکی کا شور شرابہ اور سنسنی خیز الزامات
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ملزمہ انمول عرف پنکی نے شدید شور شرابہ کیا اور جج کے سامنے روتے ہوئے کہا:
”مجھے 22 دن سے غیر قانونی طور پر اٹھایا ہوا ہے۔ پولیس مجھے لاہور سے گرفتار کر کے وین میں ڈال کر لائی ہے۔ مجھ پر تشدد کیا گیا اور سراسر جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔”
ملزمہ نے مزید انکشاف کیا کہ:
”میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔”

”مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ جو نام پولیس بتا رہی ہے، میں زبردستی ان لوگوں کے نام لوں، ورنہ میری فیملی کو اٹھا لیا جائے گا۔”
اپنے بند گھر سے منشیات کی برآمدگی پر انہوں نے کہا: “میرا وہ گھر 25 سال سے بند تھا، وہاں دھول مٹی جمی ہوئی تھی لیکن پولیس نے وہاں سے منشیات کی چمکتی ہوئی تھیلیاں نکال لیں۔”
عدالت نے ملزمہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو عدالت کے اندر کوئی ہراساں نہیں کر سکتا، آپ کا اور آپ کے وکیل کا پورا مؤقف سنا جائے گا۔ جج نے ملزمہ سے ان کی طبعیت کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ ملزمہ نے میڈیا سے بات کرنے کی اجازت مانگی تاہم عدالت نے انکار کر دیا۔
تفتیشی افسر کا مؤقف: “یونیورسٹیوں کی نسلیں تباہ کر دیں”
سماعت کے دوران جب جج نے تفتیشی افسر سے گزشتہ 3 روزہ ریمانڈ میں ہونے والی پیشرفت کا پوچھا، تو تفتیشی افسر نے بتایا کہ:

ملزمہ کی نشان دہی پر اب تک 7 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم ملزمہ انتہائی شاطر ہے اور تفتیش میں ٹال مٹول اور بار بار بیان بدلنے کا کام لے رہی ہے۔ اتے ہوئے اس نے پولیس سے کہا کہ ‘تم مجھے جانتے نہیں، میرا نام پنکی ہے’۔
ملزمہ کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے جس کے موبائل سے 800 سے زائد افراد کے نمبر ملے ہیں جنہیں وہ منشیات سپلائی کرتی تھی، اور اس گینگ میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ اس نے یونیورسٹیوں میں نوجوان نسل کو تباہ کر دیا ہے۔
ملزمہ کے اکاؤنٹس سے 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ ملا ہے، جبکہ اس کا چھوٹا بھائی لاہور میں منشیات کی سپلائی کا کام سنبھالتا ہے۔ تفتیشی افسر نے دعویٰ کیا کہ اس ملزمہ کا پورا فیملی بیک گراؤنڈ ہی منشیات کے مقدمات سے جڑا ہے۔
پولیس کی غفلت پر عدالت کی برہمی
سماعت کے دوران اس وقت جج نے شدید برہمی کا اظہار کیا جب تفتیشی افسر سے ملزمہ کا پرانا عدالتی آرڈر مانگا گیا۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ “آرڈر پولیس موبائل (گاڑی) میں رہ گیا ہے”، جس پر عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا، “کیا یہ آپ کی انویسٹی گیشن (تفتیش) ہے؟”
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
”پاؤں جل رہے ہیں، جوتے دلائے جائیں”
ایک اور مقدمے کی سماعت کے دوران ڈیوٹی مجسٹریٹ (جنوب) کے سامنے ملزمہ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ملزمہ کو مفرور قرار دیا گیا تھا اور گرفتاری کے بعد مفرور کا جسمانی ریمانڈ نہیں ہوتا۔ اس موقع پر وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ “دھکم پیل میں پنکی کے جوتے گر گئے ہیں، اس کے پاؤں جل رہے ہیں، جوتے دلوائے جائیں۔” جس پر خاتون پولیس اہلکار نے جواب دیا کہ “دھکوں میں ہمارے اپنے جوتے بھی گر چکے ہیں”۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ریکارڈ کی عدم موجودگی کے باعث کہا کہ وہ خصوصی ڈیوٹی پر ہیں، اس لیے مرکزی عدالت کا فیصلہ لایا جائے۔

ملیر کورٹ کا فیصلہ اور پراسیکیویشن کا چیلنج
بعد ازاں ملزمہ کو ملیر کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں سچل تھانے کے مقدمے میں عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انمول عرف پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا اور تفتیشی افسر کو 14 روز میں چالان پیش کرنے کی ہدایت کی۔
تاہم، قائم مقام پراسیکیوٹر منتظر مہدی نے ملیر کورٹ کے اس فیصلے کو ہائیکورٹ یا سیشن کورٹ میں چیلنج (کرمنل رویژن فائل) کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سٹی کورٹ میں بجلی کا بریک ڈاؤن
ان تمام ڈرامائی موڑ کے ساتھ کراچی سٹی کورٹ میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن بھی دیکھنے کو آیا۔ کمرہ عدالت اور ججز کے چیمبرز میں اندھیرا چھا جانے کے باعث انمول پنکی کے کیسز میں ریمانڈ کی درخواستوں پر عدالتی فیصلہ جاری ہونے میں شدید تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔





