کیا آپ بھی سیلفی میں ‘V سائن’ یا ‘تھمبز اپ’ بناتے ہیں؟ سیکیورٹی ماہرین نے بڑی تباہی کی وارننگ جاری کر دی

لاہور (اسپیشل رپورٹ)​ اگر آپ سوشل میڈیا پر تصویریں شیئر کرتے وقت انگلیوں سے فتح کا نشان (V Sign) یا تھمبز اپ (Thumbs Up) بنانے کے عادی ہیں، تو فوراً خبردار ہو جائیں! سیکیورٹی ماہرین اور سائبر سیکیورٹی اداروں نے ایک ہنگامی وارننگ جاری کی ہے جس کے مطابق، آج کے اسمارٹ فونز کے ہائی ریزولوشن کیمرے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) مل کر آپ کے فنگر پرنٹس چوری کر سکتے ہیں، جو آپ کے بینک اکاؤنٹس اور فون لاکس کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

​اصل مسئلہ کیا ہے؟
​جب آپ اپنے اسمارٹ فون سے قریب سے، بالکل صاف فوکس کے ساتھ ایسی سیلفی لیتے ہیں جس میں آپ کے ہاتھ کی انگلیاں کیمرے کی طرف ہوں، تو تصویر میں آپ کی انگلیوں کی پوریں اور ان پر موجود فنگر پرنٹ کی باریک لکیریں (Friction Ridges) واضح طور پر محفوظ ہو جاتی ہیں۔

​ کیمرے اتنے اچھے نہیں ہوتے تھے کہ ان لکیروں کو کاپی کیا جا سکے، لیکن اب ٹیکنالوجی بدل چکی ہے۔
​کیمرے کی پاور اور فاصلے کا کھیل
​جدید اسمارٹ فونز اب 50 میگا پکسل (50MP)، 100 میگا پکسل اور اس سے بھی اوپر کے کیمروں کے ساتھ آ رہے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کی ریسرچ کے مطابق:

​آج کل انسان کی بایومیٹرک معلومات (فنگر پرنٹ) سب سے بڑی سیکیورٹی ہے۔ اگر یہ چوری ہو جائے تو:
​آپ کے بینکنگ ایپس اور ڈیجیٹل والٹس ہیک ہو سکتے ہیں۔
​آپ کے فون، لیپ ٹاپ اور سمارٹ ہوم لاکس کا بائیومیٹرک ڈیٹا بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔
​چونکہ آپ پاس ورڈ کی طرح اپنے فنگر پرنٹس تبدیل نہیں کر سکتے، اس لیے ایک بار فنگر پرنٹ لیک ہونے کا مطلب ہے زندگی بھر کا خطرہ۔
​بچاؤ کی تدابیر: ماہرین کا مشورہ
​سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس نئے پرائیویسی مسئلے سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر بتائی ہیں:

​پوز تبدیل کریں: سوشل میڈیا کے لیے تصاویر کھنچواتے وقت انگلیوں کی پوریں کیمرے کے سامنے لانے (جیسے V سائن) سے گریز کریں۔ ہاتھ کی پشت دکھانا محفوظ ہے۔
​فاصلہ اور روشنی: اگر ایسا پوز بنانا ہی ہے تو کیمرے سے مناسب فاصلہ رکھیں یا روشنی ایسی ہو کہ انگلیوں پر سیدھی نہ پڑے۔
​بلر ایفیکٹ: تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے پہلے فوٹوشاپ یا کسی بھی ایپ کے ذریعے اپنے ہاتھوں کے حصے کو ہلکا سا بلر (دھندلا) کر دیں۔
​ٹو فیکٹر اتھینٹیکیشن: صرف فنگر پرنٹ لاک پر بھروسہ نہ کریں، اپنے اہم اکاؤنٹس کے لیے پن کوڈ (PIN) یا فیس آئی ڈی (Face ID) کا بیک اپ لازمی رکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں