کراچی (ویب ڈیسک): منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے ڈرامائی ڈراپ سین کے بعد، اس کے مبینہ سہولت کار کانسٹیبل کی تمام بڑی سزائیں معاف کر دی گئیں اور اس کی پولیس فورس میں جلد بحالی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ کانسٹیبل کافی عرصے تک انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک کا مبینہ سہولت کار رہا تھا، جس پر مجرموں کی پشت پناہی اور اس کے بدلے بھاری رقوم وصول کرنے کے سنگین الزامات تھے۔ حساس اداروں اور خفیہ رپورٹس کی بنیاد پر پولیس کے اعلیٰ افسران نے اس اہلکار کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اسے نوکری سے برطرف یا معطل کر کے بڑی سزائیں سنائی تھیں۔

سزا معافی کے لیے منفرد ’ٹاسک‘
ذرائع کا کہنا ہے کہ سزا یافتہ اہلکار جب معافی کی اپیل لے کر ایک اعلیٰ پولیس افسر کے سامنے پیش ہوا، تو اسے محکمہ جاتی رعایت کے بدلے ایک بڑا چیلنج دیا گیا۔ پولیس افسر کی جانب سے کانسٹیبل کو پیشکش کی گئی کہ اگر وہ مفرور ملزمہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کروا دے، تو اس کی تمام سزائیں ختم کر دی جائیں گی۔
ایک ہفتے میں ٹاسک مکمل
سابقہ گٹھ جوڑ اور نیٹ ورک کی اندرونی معلومات ہونے کے باعث، کانسٹیبل نے اس پیشکش کا فائدہ اٹھایا اور محض ایک ہفتے کے اندر ٹاسک پورا کر دکھایا۔ پولیس نے اسی اہلکار کی درست نشاندہی پر چھاپہ مار کر انمول عرف پنکی کو حراست میں لیا۔
بحالی کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق، منشیات فروشی کے بڑے نیٹ ورک کی گرفتاری کا ٹاسک کامیابی سے پورا کرنے پر محکمہ پولیس نے اپنا وعدہ نبھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانسٹیبل کو دی گئی تمام بڑی سزائیں معاف کی جا رہی ہیں اور اس کی ملازمت پر بحالی کے احکامات بھی جلد متوقع ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایک بڑے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے اس اسٹریٹجک ڈیل کو کامیابی سے استعمال کیا، تاہم جرائم پیشہ عناصر کی سہولت کاری کرنے والے اہلکار کی دوبارہ بحالی پر محکمہ کے اندرونی حلقوں میں بحث بھی چھڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
پنکی کیس کی تحقیقات،کراچی پولیس نے ایف آئی اے سے مدد مانگ لی





