پہاڑوں تلے گہری سرنگ میں ہزاروں مصنوعی زلزلے پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ، دنیا کے سائنسدان دنگ

زیورخ (ویب ڈیسک) زلزلوں کی تباہ کاریوں سے بچنے اور ان کے آنے کی وجوہات کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے سائنس کی دنیا میں ایک بہت بڑی اور انوکھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے جنوبی حصے میں محققین نے ایک خاص اور مکمل زیرِ نگرانی ماحول میں زمین کو لرزا کر ہزاروں چھوٹے زلزلے پیدا کیے ہیں، تاکہ زلزلہ پیما سرگرمیوں (Seismicity) کے بارے میں ایسی معلومات حاصل کی جا سکیں جن سے مستقبل میں بڑے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
“یہ ایک بڑی کامیابی تھی!”

اس منصوبے کے اہم ترین محقق اور زیورخ میں ‘سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی’ (ETH Zurich) کے جیولوجی کے پروفیسر ڈومینیکو گیارڈینی نے سوئس الپس (Swiss Alps) کے پہاڑوں کے بہت نیچے ایک تنگ سرنگ کی چٹانی دیوار میں پڑنے والی دراڑ کا معائنہ کرتے ہوئے جوش و خروش سے کہا، “یہ ایک کامیابی تھی! ہمیں زلزلے کی لہریں واضح طور پر محسوس ہوئیں”۔
پروفیسر گیارڈینی نے نارنجی رنگ کا چمکدار جمپ سوٹ اور ہیلمٹ پہن کر اپنا ہیڈ لیمپ آن کیا تاکہ وہ اس کا قریب سے جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس انوکھے تجربے کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا تھا کہ جب زمین حرکت کرتی ہے تو اس کی گہرائی میں اصل میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

زمین سے ڈیڑھ کلومیٹر نیچے ‘BedrettoLab’
یہ تجربہ سوئٹزرلینڈ کی مشہور ‘فرکا ریلوے ٹنل’ کی طرف جانے والی 5.2 کلومیٹر لمبی ہوا دار سرنگ کے بیچ میں قائم کردہ خصوصی لیبارٹری ‘BedrettoLab’ میں کیا گیا۔
پروفیسر گیارڈینی نے بتایا کہ کیچڑ والے فرش پر بچھی کنکریٹ کی سلیبوں پر چلنے والی خصوصی الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعے اس گہری زیرِ زمین لیبارٹری تک پہنچا جاتا ہے، جو زلزلوں کو خود پیدا کرنے اور ان کا مطالعہ کرنے کے لیے دنیا کی بہترین جگہ ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جگہ اس لیے بہترین ہے کیونکہ ہمارے اوپر ڈیڑھ کلومیٹر اونچا پہاڑ ہے، جہاں ہم فالٹ لائنوں (زمین کی دراڑیں) کو بہت قریب سے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کیسے اور کب حرکت کرتی ہیں، اور ہم انہیں خود بھی حرکت دے سکتے ہیں”۔
انتظار کے بجائے خود زلزلہ پیدا کرنے کی کوشش
عام طور پر، زلزلوں کا مطالعہ کرنے والے محققین معلوم فالٹ لائنوں کے پاس سینسر لگا کر زلزلہ آنے کا انتظار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، BedrettoLab میں محققین نے ایک پہلے سے منتخب کردہ فالٹ کو سینسرز اور دیگر جدید آلات سے بھر دیا اور پھر خود اس میں حرکت پیدا کی۔
اس منفرد تجربے کو ‘FEAR-2’ کا نام دیا گیا ہے، جس کے لیے پورے یورپ سے درجنوں سائنسدانوں نے چار دن گزارے۔ انہوں نے سرنگ کی چٹانی دیواروں میں کیے گئے گہرے سوراخوں (Borholes) میں 750 کیوبک میٹر پانی انتہائی پریشر کے ساتھ داخل کیا، تاکہ وہاں 1 شدت (Magnitude) کا زلزلہ پیدا کیا جا سکے۔ پروفیسر گیارڈینی نے واضح کیا کہ “ہم کوئی نیا فالٹ پیدا نہیں کرتے، ہم صرف پانی کے ذریعے اس کی حرکت کو آسان بناتے ہیں”۔

8,000 چھوٹے زلزلے اور ریموٹ کنٹرول آپریشن
حفاظتی وجوہات کی بنا پر اس حساس تجربے کے دوران سرنگ میں کوئی بھی انسان موجود نہیں تھا، اور تمام معاملات کو شمالی سوئٹزرلینڈ میں ‘ETH Zurich’ کی لیب سے ریموٹ کے ذریعے کمپیوٹرز پر کنٹرول کیا گیا۔
کامیاب تجربے کے نتیجے میں ٹارگٹڈ فالٹ کے ساتھ ساتھ تقریباً 8,000 چھوٹے سیزمک ایونٹس (زلزلے) پیدا ہوئے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ زلزلے اصل فالٹ کے عمودی (Perpendicular) دوسری دراڑیں میں بھی پیدا ہوئے، جن کی مقامی شدت منفی 5 سے منفی 0.14 (-5 to -0.14) کے درمیان تھی۔ پروفیسر گیارڈینی نے بتایا کہ اگرچہ ہم اس خاص شدت (1 میگنیٹیوڈ) تک نہیں پہنچ سکے جو ہم نے مقرر کی تھی، لیکن ہم اس کے بالکل قریب پہنچنے میں کامیاب رہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس تجربے سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل میں زلزلوں کی قبل از وقت پیشگوئی اور زیرِ زمین انرجی پروجیکٹس کو محفوظ بنانے میں اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں