لاہور(سوچ ٹی وی رپورٹ)
چارمارچ 2026 کو بحرِ ہند میں پیش آنے والے ایک غیر معمولی بحری واقعے نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی۔ ایران کا جدید جنگی جہازآئرس ڈینا اچانک ایک زور دار دھماکے کے بعد آگ اور دھوئیں میں گھِر گیا اور چند ہی لمحوں میں شدید نقصان کا شکار ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق اس جہاز پر تقریباً 180 ایرانی اہلکار موجود تھے۔ حادثے کے بعد شروع ہونے والے ریسکیو آپریشن میں 87 لاشیں سمندر سے نکالی گئیں جبکہ 32 زخمی اہلکاروں کو زندہ بچا لیا گیا۔ اس کے علاوہ 60 سے زائد اہلکار تاحال لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سمندر میں ڈوب گئے۔
اس واقعے کا سب سے حیران کن پہلو صرف جہاز کا تباہ ہونا نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی حیثیت ہے۔ یہ واقعہ کسی دشمن ساحل کے قریب نہیں بلکہ بھارت کے ساحل کے قریب پیش آیا، جبکہ یہی جہاز چند روز قبل بھارت کی میزبانی میں ہونے والی ایک بڑی بحری مشق میں شریک تھا۔
عالمی بحری مشق میں ایران کی شرکت
فروری میں بھارتی بحریہ نے ملن 2026 کے نام سے ایک بڑی کثیرالقومی بحری مشق کا انعقاد کیا۔ یہ مشق وشاکھاپٹنم اور خلیج بنگال میں منعقد ہوئی جس میں دنیا کے 74 ممالک نے شرکت کی۔
اس مشق میں تقریباً 85 جنگی جہاز شریک تھے جبکہ مختلف ممالک کے بحری وفود اور دفاعی ماہرین بھی موجود تھے۔ ایران کا جدید جنگی جہازبھی انہی مہمانوں میں شامل تھا۔
مشق کے دوران مختلف ممالک کی بحری افواج نے مشترکہ تربیت، سمندر میں فائرنگ کی مشق، بحری دفاعی حکمت عملی اور مشترکہ آپریشنز کی مشقیں کیں۔
اس ایونٹ کے اختتام پرانٹرنیشنل فلیٹ ریویو
(International Fleet Review)
نامی ایک بڑی تقریب منعقد کی گئی جس میں مختلف ممالک کے جنگی جہاز ایک قطار میں کھڑے کیے گئے۔ اس تقریب کو عالمی سطح پر بحری تعاون اور دوستی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
حملہ کیسے ہوا؟
رپورٹس کے مطابق 4 مارچ 2026 کو ایرانی جنگی جہاز مشق مکمل کرنے کے بعد بھارت سے روانہ ہو کر ایران کی طرف جا رہا تھا۔
یہ جہاز ابھی زیادہ دور نہیں پہنچا تھا کہ بھارت کے ساحل سے تقریباً 40 ناٹیکل میل کے فاصلے پر اچانک ایک طاقتور دھماکہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق سمندر کے نیچے موجود ایک امریکی آبدوز نے
مارک 48 ٹارپیڈو فائر کیا جس نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا۔
چند ہی لمحوں میں جہاز کے اندر آگ اور دھواں پھیل گیا اور شدید تباہی ہوئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی امریکی فوجی آپریشن ایپک فیوری
(Operation Epic Fury)
کا حصہ تھی۔
امریکی دفاعی حلقوں میں اس کارروائی کوکوائٹ ڈیتھ یعنی خاموش موت کا نام بھی دیا گیا۔
بھارت اور امریکہ کے دفاعی معاہدے
اس واقعے کے بعد ایک اہم سوال عالمی تجزیہ کاروں کے درمیان زیر بحث ہے کہ کیا بھارت کو اس کارروائی کا علم تھا؟
گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت اور امریکہ کے درمیان کئی بڑے دفاعی معاہدے ہو چکے ہیں جنہوں نے دونوں ممالک کی فوجی شراکت داری کو انتہائی مضبوط بنا دیا ہے۔
2002 — (GSOMIA)
General Security of Military Information Agreement
اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ فوجی معلومات اور انٹیلی جنس شیئر کرتے ہیں۔
2016 — (LEMOA)
Logistics Exchange Memorandum of Agreement
اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے فوجی اڈے استعمال کر سکتی ہیں اور جنگی جہاز ایک دوسرے کی بندرگاہوں میں ایندھن اور مرمت حاصل کر سکتے ہیں۔
2018 — (COMCASA)
Communications Compatibility and Security Agreement
اس معاہدے کے ذریعے بھارت کو امریکہ کے محفوظ فوجی مواصلاتی نظام تک رسائی دی گئی جس کے ذریعے دونوں ممالک ریئل ٹائم خفیہ معلومات شیئر کر سکتے ہیں۔

2020 — (BECA)
Basic Exchange and Cooperation Agreement
اس معاہدے کے تحت امریکہ بھارت کو سیٹلائٹ ڈیٹا، جغرافیائی معلومات اور انتہائی درست نقشے فراہم کرتا ہے جو میزائل اور فوجی آپریشنز میں استعمال ہوتے ہیں۔
2025 — (COMPACT)
فروری 2025 میں دونوں ممالک نےکومپیکٹ
نامی ایک اور معاہدہ کیا جس کا مقصد دفاعی تعاون بڑھانا، جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور بحرِ ہند میں مشترکہ اسٹریٹجک حکمت عملی تیار کرنا تھا۔
ان معاہدوں کے بعد بعض ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اتنے قریبی دفاعی تعاون کے باوجود کیا واقعی بھارت کو اپنے ساحل کے قریب موجود امریکی آبدوز کی خبر نہیں تھی؟
ریسکیو آپریشن
جب ایرانی جہاز ڈوب رہا تھا تو سب سے پہلے امدادی کارروائی سری لنکن بحریہ نے شروع کی۔
سری لنکا کی بحریہ نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا، زخمی اہلکاروں کو نکالا اور کئی زندہ بچ جانے والوں کو بچانے میں کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں دیگر علاقائی بحری اداروں نے بھی تلاش اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
بڑھتے ہوئے سوالات
ایرانی جنگی جہاز کی تباہی نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
ایک ایسا جہاز جو چند روز پہلے کسی ملک کا مہمان تھا، وہ اسی خطے میں نشانہ کیسے بن گیا؟
کیا بھارت کو اپنے ساحل کے قریب ہونے والی کارروائی کی اطلاع تھی؟
یا یہ واقعہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری ایک بڑے اسٹریٹجک کھیل کا حصہ ہے؟
بحرِ ہند عالمی تجارت اور فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے انتہائی اہم خطہ سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ مستقبل میں بحری سیکیورٹی، عالمی اتحادوں اور علاقائی طاقت کے توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
فی الحال اس واقعے کے کئی پہلو ابھی تک واضح نہیں ہو سکے، تاہم ایک بات یقینی ہے کہ آئرس ڈینا کی تباہی نے بحرِ ہند کی سیاست اور سیکیورٹی کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے
یوٹیوب پر دیکھیں





