​ایران سے ڈیل یا دوبارہ حملہ؟ ’ففٹی ففٹی‘ ہوں، اتوار کو حتمی فیصلہ کروں گا: ٹرمپ

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر ایک بڑا اور جارحانہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ پیشکش پر اپنے مذاکراتی نمائندوں سے ملاقات کے بعد ممکنہ طور پر اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں گے کہ ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا کوئی معاہدہ کرنا ہے۔

​امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ (Axios) کے مطابق، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت صورتحال ’ففٹی ففٹی‘ (50/50) ہے؛ یا تو وہ ایران کے ساتھ ایک ’اچھا‘ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ایران کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیں گے‘۔
اہم ترین مشاورتی بیٹھک اور متبادل راستے
​ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ایران کے تازہ ردعمل پر تفصیلی غور و خوض کے لیے اپنے قریبی مشیروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں، جبکہ اس اہم بیٹھک میں نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت بھی متوقع ہے۔
​امریکی صدر نے دو ٹوک انداز میں کہا: “میرے خیال میں دو میں سے ایک ہی چیز ہوگی، یا تو میں انہیں پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے نشانہ بناؤں گا یا پھر ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے۔” انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ان کی انتظامیہ اور مقتدر حلقوں میں بھی اس معاملے پر دو آراء ہیں، کچھ لوگ معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ کچھ دوبارہ جنگ شروع کرنے کے حق میں ہیں۔
​نیتن یاہو کے تحفظات کی تردید اور کڑی شرائط
​صدر ٹرمپ نے ان افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات پر فکرمند ہیں کہ امریکہ ایران کے ساتھ کوئی ناموافق یا نرم معاہدہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور صرف وہی معاہدہ قبول ہوگا جس میں یورینیم کی افزودگی اور ایران کے موجودہ یورینیم ذخائر کی تلفی جیسے سخت معاملات شامل ہوں گے۔
​موجودہ ایم او یو (MoU) اور سفارتی رکاوٹیں
​امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ جن سخت ترین امور (یورینیم افزودگی وغیرہ) کا حل چاہتے ہیں، وہ اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت فوری طور پر حل ہونا ممکن نظر نہیں آتا جس پر اس وقت پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت چل رہی ہے۔
​موجودہ تجویز کے تحت دونوں ممالک نے صرف جنگ کے خاتمے پر اتفاق کرنا ہے، جس کے بعد مزید تفصیلی اور پیچیدہ مذاکرات کے لیے 30 دن کی مہلت طے کی جائے گی۔ تاہم، ٹرمپ کے حالیہ بیان نے اتوار کے دن کو عالمی سیاست اور خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی سنسنی خیز اور اہم بنا دیا ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں ’مفاہمتی یادداشت‘ پر کام جاری ہے، ایران

اپنا تبصرہ بھیجیں