پاکستان کی ثالثی میں ’مفاہمتی یادداشت‘ پر کام جاری ہے، ایران

تہران (ویب ڈیسک): ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے ذریعے ایک اہم مفاہمتی یادداشت (MoU) کو حتمی شکل دینے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ امریکی حکام کی جانب سے بار بار پوزیشن تبدیل کرنے کے باعث حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔

​بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، ایرانی ترجمان نے موجودہ سفارتی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم معاہدے سے ابھی کافی دور بھی ہیں اور کافی قریب بھی۔” انہوں نے خطے میں قیامِ امن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے زور دیا کہ اس وقت جنگ کا خاتمہ، بالخصوص لبنان میں جاری جنگ کو رکوانا ایران کی اولین ترجیح ہے۔
​آبنائے ہرمز اور امریکی مداخلت پر دو ٹوک مؤقف
​اسماعیل بقائی نے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی نظام، سیکیورٹی یا طریقہ کار پر صرف ایران، عمان اور اس سے ملحقہ دیگر علاقائی ممالک کے درمیان ہی اتفاق ہونا چاہیے۔ انہوں نے واشنگٹن کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اس اہم معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مذاکرات میں حائل رکاوٹیں
​مذاکرات میں درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے کہا کہ اس عمل میں ایک بڑا اور اہم مسئلہ امریکہ کی جانب سے کی جانے والی ’بحری قزاقی‘ یعنی ایران کی ناکہ بندی ہے۔
​انہوں نے مزید کہا کہ “یہ ایک طویل عمل ہے کیونکہ ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنی بھی طویل المدتی ہے۔ اسی لیے انتہائی قلیل وقت میں کسی حتمی نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔”
​سفارتی ماہرین کے مطابق، پاکستان کی جانب سے دونوں حریف ممالک کے درمیان پسِ پردہ ثالثی کا یہ کردار خطے میں بڑی جنگ کے خطرات کو ٹالنے اور سفارتی حل نکالنے میں انتہائی کلیدی ثابت ہو رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں