لاہور(سوچ ٹی وی رپورٹ )امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کیے گئے مشترکہ فوجی حملوں کے پہلے دن یعنی 28 فروری 2026 کو جنوبی ایران کے شہر مناب میں شجرۃ طیبہ گرلز ایلیمنٹری سکول پر ایک میزائل حملہ ہوا، جس میں ایرانی حکام کے مطابق کم از کم 168 سے 180 افراد شہید ہوئے، جن میں اکثریت 7 سے 12 سال کی بچیوں کی تھی۔ یہ حملہ جنگ کے اب تک کے سب سے زیادہ شہری ہلاکتوں والے واقعات میں سے ایک ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا اور ہیلتھ حکام کے مطابق، حملہ سکول کے اوقات میں ہوا جب بچے کلاسز میں موجود تھے۔ عمارت کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا، اور بچوں کے بیگ، کتابیں اور دیگر سامان ملبے میں بکھرے نظر آئے۔ ابتدائی اطلاعات میں کم از کم 95 افراد زخمی بھی ہوئے۔
پینٹاگون کی ابتدائی تفتیش کا انکشاف
امریکی فوج کی جاری تفتیش کے ابتدائی نتائج کے مطابق، یہ حملہ امریکہ کی طرف سے فائر کیا گیا ٹومی ہاک میزائل تھا، جو ایک قریبی IRGC (اسلامی انقلابی گارڈز کور) نیول بیس کو نشانہ بنانے کے دوران ‘ٹارگٹنگ کی غلطی’ کی وجہ سے سکول پر گرا۔ نیو یارک ٹائمز، سی این این اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق، یہ غلطی پرانی انٹیلی جنس اور آؤٹ ڈیٹڈ ٹارگٹ کوآرڈینیٹس کی وجہ سے ہوئی۔ سکول اور بیس ایک وقت میں ایک ہی کمپلیکس کا حصہ تھے، لیکن اب الگ تھلگ تھے۔

امریکی حکام نے ابتدائی طور پر ایران کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی، لیکن سیٹلائٹ تصاویر، ویڈیوز اور میزائل کے پرزوں کی جانچ سے یہ واضح ہوا کہ ٹوما ہاک میزائل صرف امریکہ استعمال کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے اس کی مکمل معلومات نہیں”۔ پینٹاگون نے تفتیش جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے، جو کئی ماہ جاری رہ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے ‘بچوں پر حملہ’ قرار دیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “کلاس روم میں بچیوں کا قتل – کوئی عذر نہیں بن سکتا”۔ یونیسف نے بھی اسے ‘جنگ کی بربریت’ قرار دیا اور کہا کہ ایران میں اب تک تقریباً 180 بچے شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 168 صرف اس ایک سکول سے ہیں۔
غزہ سے مماثلت اور جنگی حکمت عملی کا سوال ماہرین اور تجزیہ کار اس حملے کو غزہ میں اسرائیلی حملوں سے تشبیہ دے رہے ہیں، جہاں 90% سے زائد سکول تباہ ہو چکے ہیں اور 658,000 بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ الجزیرہ اور دیگر رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ ‘غزہ طرز کا پلے بک’ ہے: سکولوں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا کر ملک کے مستقبل کو تاریک کرنا ہے۔
ایک تجزیہ کار نے کہا کہ “یہ تعلیم اور بچوں کی ذہنی نشوونما کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی ہے، جو نسلوں تک اثرات چھوڑتی ہے”۔

نفسیاتی اور طویل مدتی اثرات یونیسف اور دیگر اداروں کے مطابق، ایسے حملے بچوں میں شدید ٹراما (PTSD)، ڈپریشن، خوف اور ذہنی معذوری کا باعث بنتے ہیں۔ غزہ میں 96% بچوں میں PTSD کی علامات دیکھی گئی ہیں، اور ایران میں بھی یہی خطرہ ہے۔ بچوں کی ذہنی بلوغت میں 20-30 سال لگ سکتے ہیں، جس سے پورا معاشرہ متاثر ہوگا – بے روزگاری، انتہا پسندی اور برین ڈرین کا خطرہ بڑھے گا۔
والدین بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، جو خاندانی ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے۔
عالمی ردعمل اور جنگ کا مستقبل
یہ واقعہ جنگ میں شہری ہلاکتوں پر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ انسانی حقوق واچ نے اسے ممکنہ ‘وار کرائم’ قرار دے کر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران نے انتقام کی دھمکیاں دی ہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے فوجی آپریشنز جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔





