لندن/ واشنگٹن( ویب ڈیسک)
ایران نے جنگ کے 21ویں روز بڑا قدم اٹھاتے ہوئے برطانیہ کے زیرانتظام ڈیگو گارشیا میں واقع امریکہ برطانیہ مشترکہ فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے

امریکی اور برطانوی ذرائع کے مطابق ایران نے دو انٹرمیڈیٹ رینج بیلسٹک میزائل فائر کیے تاہم دونوں ہدف تک نہیں پہنچ سکے
ایک میزائل دوران پرواز ناکام ہو کر سمندر میں گر گیا جبکہ دوسرے کو امریکی جنگی بحری جہاز نے ایس ایم 3 انٹرسیپٹر کے ذریعے روکنے کی کوشش کی کامیابی کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی
حملے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی
ڈیگو گارشیا ایران سے تقریباً 4000 کلومیٹر دور واقع ہے اس حملے نے ایران کی میزائل صلاحیت کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ ایران پہلے اپنی رینج 2000 کلومیٹر تک محدود بتاتا رہا ہے

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران ممکنہ طور پر طویل فاصلے کے میزائل یا اسپیس لانچ ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے جسے تشویشناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے
ادھر برطانیہ نے حملے سے چند گھنٹے قبل اہم فیصلہ کرتے ہوئے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے ایرانی اہداف کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے دی
رپورٹس کے مطابق یہ اجازت خاص طور پر ان اہداف کے لیے دی گئی ہے جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں
اس سے قبل برطانیہ محدود نوعیت کی اجازت دے چکا تھا تاہم جمعہ کے وزارتی اجلاس میں اس دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا گیا
اب امریکی افواج برطانوی اڈوں کو دفاعی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کے تحفظ کے لیے استعمال کر سکیں گی
ڈاؤننگ اسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ خود براہ راست حملوں میں شامل نہیں ہوگا اور اس کے مؤقف میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی
برطانوی حکومت کے مطابق فوری کشیدگی میں کمی اور جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کا اقدام تاخیر سے آیا اور اسے پہلے فیصلہ کرنا چاہیے تھا
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ امریکہ کے ساتھ شامل ہوا تو برطانوی مفادات بھی نشانے پر آ سکتے ہیں
ڈیگو گارشیا کو امریکہ کا اہم اسٹریٹجک اڈہ سمجھا جاتا ہے جہاں سے طویل فاصلے کے فوجی آپریشنز کیے جاتے ہیں
آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی تیل ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور شپنگ سرگرمیوں میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے
تاحال جنگ بندی کے کوئی آثار نہیں امریکی صدر کے مطابق امریکہ اپنے اہداف کے قریب ہے تاہم کارروائیاں جاری رہیں گی
صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور جنگ کا دائرہ مشرق وسطیٰ سے بڑھ کر ہند سمندر تک پھیل چکا ہے





