تہران/واشنگٹن (سوچ ٹی وی رپورٹ)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہاکوچھونےلگی ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےایران کےخلاف بڑے پیمانےپرزمینی آپریشن کاآپشن میزپررکھ دیاہے جس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی اپنی بقا کی جنگ کا آغاز کر دیا ہے،عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ آبنائے ہرمز کے اسٹریٹیجک جزائر اور ایران کے ساحلی مراکز پر قبضے کا منصوبہ بنارہا ہے

امریکی فوجی نقل و حرکت اور اہداف
ذرائع کے مطابق برطانیہ اور جرمنی میں امریکی پیرا ٹروپرزکو الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈھائی ہزار میرینز کمانڈوز پر مشتمل بحری بیڑے خلیج فارس کی جانب گامزن ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی نظریں ایران کےخارگ آئی لینڈ،ابوموسیٰ اورتنبِ بزرگ جیسےجزائرپرہیں تاکہ عالمی تیل کی سپلائی کاکنٹرول سنبھال سکے،اس مشن کےلیے ڈیلٹافورس اور نیوی سیلز کو ایرانی ایٹمی تنصیبات میں داخل کرنےکی منصوبہ بندی بھی سامنےآئی ہے
ایران کا دفاعی حصار: اسمارٹ مائنز اور بنکر بسٹر حملے
ایرانی عسکری قیادت نے دوٹوک پیغام دیا ہے کہ کسی بھی مہم جوئی کا عبرتناک جواب دیا جائے گا۔
نقصانات: اطلاعات ہیں کہ امریکی بیڑوں ‘جیرالڈ’ اور ‘ابراہام لنکن’ کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو مرمت کے لیے قبرص پہنچ چکے ہیں۔

دفاعی جال: ایران نے اپنے ساحلوں پر ہزاروں اسمارٹ مائنز اور بوبی ٹریپس بچھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا زیرِ زمین فوجی نیٹ ورک امریکی فوج کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔
جوابی کارروائی: امریکہ ایران کی زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے 5 ہزار پاؤنڈ وزنی جی بی یو-28 (بنکر بسٹر) بم استعمال کررہاہےتاہم ایران نےاپناحساس انفرااسٹرکچرپہلےہی محفوظ مقامات پرمنتقل کردیاہے
توانائی کی جنگ اور جوہری دھماکے کی بحث
ایران نے قطر کے گیس فیلڈ ‘راس لفان’ کو نشانہ بنا کر واضح کر دیا ہے کہ وہ عالمی توانائی کے نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلا ہدف آرامکو اور برکہ ایٹمی پاور پلانٹ ہو سکتے ہیں۔ تہران میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اب بقا کا واحد راستہ جوہری دھماکہ ہی ہے۔

لبنان،عراق:اسرائیل اورامریکہ کے لیے مشکلات
حزب اللہ کی برتری:لبنان کےزمینی محاذپرحزب اللہ نےاسرائیلی فوج کو پسپا کررکھاہے،دعویٰ کیا گیا ہے کہ 16 مارچ سے اب تک 30 سے زائد صہیونی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سدرن کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل بارون بھی شامل ہیں۔
عراق میں محاصرہ: عراق میں ‘کتائب حزب اللہ’ نے امریکی اڈوں کا گھیراؤ کر لیا ہے۔ مزاحمتی تنظیم نے امریکی سفارتی عملے کے محفوظ انخلا کے لیے 5 دن کی مہلت دیتے ہوئے سخت شرائط رکھ دی ہیں۔
قیادت کی تبدیلی اور رہبرِ اعلیٰ کا انتباہ
ایرانی رہبرِ اعلیٰ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کمانڈرز کی شہادت پر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر خون کا قصاص لیا جائے گا۔ ایران نے اپنی ‘سیکنڈ لیئر لیڈرشپ’ کو میدان میں اتار دیا ہے، جو ایک نظریاتی کونسل کے تحت جنگی امور چلا رہی ہے۔ ایران کا میزائل اور ڈرون مینوفیکچرنگ سسٹم حملوں کے باوجود مکمل فعال ہے اور یومیہ ہزاروں کی تعداد میں نیا بارود تیار کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ: عسکری مبصرین کے مطابق اگر امریکہ زمینی جنگ شروع کرتا ہے تو 5 لاکھ فوج بھی ایرانی گوریلا فائٹرز کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔ خطہ ایک ایسی جنگ کے دہانے پر ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے





