واشنگٹن/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے ریٹائرڈ امریکی جنرلز اور دفاعی ماہرین نے بائیڈن انتظامیہ اور پنٹاگون کو سخت خبردار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی سرزمین پر قدم رکھنا امریکا کے لیے ایک “مہنگا ترین سودا” اور “جانی نقصان کا قبرستان” ثابت ہو سکتا ہے۔
زمینی کارروائی: ماہرین کی نظر میں ایک بھیانک خواب
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق متعدد ریٹائرڈ کمانڈرز نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا جغرافیہ اور وہاں کی منظم عسکری قوت کسی بھی زمینی آپریشن کو انتہائی پیچیدہ بنا دے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اہم تزویراتی علاقوں (Strategic Areas) کا حصول محض فضائی حملوں سے ممکن نہیں، اور اگر امریکا نے زمینی فوج اتاری تو اسے وہ مزاحمت دیکھنی پڑے گی جو عراق یا افغانستان سے کہیں زیادہ شدید ہوگی۔
فوجی نقل و حرکت:
5 ہزار اہلکار مشرقِ وسطیٰ روانہ
ایک امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ہنگامی طور پر 5,000 زمینی فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
* 1500 پیراٹروپرز: 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے 1500 پیراٹروپرز کی تعیناتی کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جو کسی بھی وقت پیراشوٹ لینڈنگ کے ذریعے آپریشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔
جاپانی بیس سے میرینز کی روانگی: جاپان میں تعینات امریکی میرین یونٹس کو پہلے ہی خطے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔
کیلیفورنیا سے کمک: آئندہ چند ہفتوں میں کیلیفورنیا سے میرینز کا ایک بڑا دستہ مشرقِ وسطیٰ پہنچنے کی توقع ہے۔
کیا ‘کھارگ جزیرہ’ اگلا ہدف ہے؟
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کا ممکنہ ہدف ایران کا کھارگ جزیرہ (Kharg Island) ہو سکتا ہے، جہاں سے ایران کی 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔ تاہم، ریٹائرڈ جنرلز کا کہنا ہے کہ اس چھوٹے سے جزیرے پر قبضہ کرنا بھی ایک “انتہائی اشتعال انگیز” قدم ہوگا جو پوری دنیا میں توانائی کے بحران اور ایک ہمہ گیر جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

حتمی فیصلہ تاحال واضح نہیں
امریکی جریدے کے مطابق، اتنی بڑی فوجی نقل و حرکت کے باوجود وائٹ ہاؤس اور پنٹاگون نے تاحال ایران کے اندر کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا کا مقصد زمینی جارحیت نہیں بلکہ ایران پر دباؤ بڑھانا ہے، تاہم فوجی آپشنز کو میز سے نہیں ہٹایا گیا۔
> اہم نکتہ: ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے پاس جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ ہے، جو خلیج فارس میں موجود امریکی بحری بیڑوں اور قریبی اڈوں کو پلک جھپکتے نشانہ بنا سکتے ہیں





