نیدرلینڈز میں2 مسلم خواتین پر پولیس تشدد کیخلاف احتجاج، عوام سڑکوں پر نکل آئے

نیدرلینڈز کے شہر یوٹرخت میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں دو مسلم خواتین پر تشدد کے واقعے کے بعد نسل پرستانہ تشدد کے خلاف بڑا احتجاج کیا گیا۔ مظاہرہ جمعرات کے روز ہوا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق پیر کے روز یوٹرخت میں ایک پولیس اہلکار نے دو مسلم خواتین پر تشدد کیا، ایک خاتون کو ڈنڈا مارا گیا جبکہ دوسری کے پیٹ میں لات ماری گئی۔ واقعے کے بعد ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔
جمعرات کو ویردنبرگ اسکوائر پر مظاہرین جمع ہوئے اور پولیس رویے کے خلاف احتجاج کیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ یہ کوئی اکا دکا واقعہ نہیں بلکہ نسلی بنیادوں پر تشدد نیدرلینڈز میں منظم اور بار بار ہو رہا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ڈچ پولیس متاثرہ خواتین اور عوام سے معافی مانگے، ایسے واقعات کے دوبارہ نہ ہونے کی یقین دہانی کرائے اور ملوث اہلکار کو معطل کیا جائے۔ احتجاج کے دوران “نو جسٹس نو پیس”، “نسل پرست پولیس نامنظور” اور “فاشسٹ پولیس دہشت گردی بند کرو” جیسے نعرے لگائے گئے۔
بعد ازاں مظاہرین نے مارچ کرتے ہوئے یوٹرخت کے پارڈن ویلڈ پولیس اسٹیشن کا رخ کیا۔
ڈچ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس بیان کے مطابق دستیاب تمام ویڈیوز کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثرہ خواتین میں سے ایک کو مبینہ طور پر پولیس اہلکار کی توہین کے شبہے میں حراست میں لیا گیا تھا۔
ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے این او ایس کے مطابق پولیس ترجمان نے کہا کہ ویڈیو فوٹیج نے خاص طور پر نسل پرستی سے متعلق شدید جذبات اور سوالات کو جنم دیا ہے۔
متاثرہ خواتین کے وکیل انیس بومنجل نے بتایا کہ پولیس اہلکار نے نسل پرستانہ جملےکسےاورکہا، جن میں “تمہارا اس ملک میں کوئی تعلق نہیں” ، وکیل کے مطابق دونوں خواتین کو تشدد کے باعث چوٹیں آئیں اور وہ اس وقت زیرعلاج ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں