اپنی نوعیت کی سب سے بڑی نئی تحقیق میں انسانوں اور مصنوعی ذہانت کی تخلیقی صلاحیتوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ کینیڈا کی یونیورسٹی آف مونٹریال کے محققین نے ایک وسیع مطالعہ کیا جس میں ایک لاکھ انسانوں کا مقابلہ جدید ترین جنریٹو اے آئی ماڈلز سے کیا گیا تاکہ دونوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اسے اب تک کی سب سے بڑی تحقیق قرار دیا جا رہا ہے۔

ذاتی ذوق اور غیر موضوعی سمجھے جانے والے اس شعبے کی پیمائش کے لیے ٹیم نے “چیٹ جی پی ٹی”، “کلاڈ” اور “جیمنی” سمیت جدید ترین لارج لینگویج ماڈلز (LLMs) کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے مختلف لسانی تخلیقی کاموں کا استعمال کیا۔ یونیورسٹی آف مونٹریال کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر کریم جربی کے مطابق اس کے لیے ایک ایسا درست فریم ورک تیار کیا گیا جو ایک لاکھ سے زیادہ شرکاء کے ڈیٹا کی بنیاد پر انسانی اور مصنوعی تخلیقی صلاحیتوں کا موازنہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

یاد رہے انسانی تخلیق کی پیمائش کرنا ایک مشکل عمل ہے، اس لیے یہ مطالعہ اپنی وسعت کے باوجود مخصوص پیمائشوں اور حدود کے تابع ہے۔ ٹیم نے ڈائیورجنٹ ایسوسی ایشن ٹاسک (DAT) کا استعمال کیا جس میں چار منٹ کے اندر 10 ایسے الفاظ لکھنے ہوتے ہیں جن کا آپس میں تعلق جتنا کم ہو، وہ اتنا ہی زیادہ تخلیقی تصور کیا جاتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اگرچہ اے آئی ماڈلز نے اوسطاً انسانوں سے زیادہ تخلیقی صلاحیت دکھائی لیکن تقریباً آدھے انسانی شرکا مصنوعی ذہانت کے برابر رہے۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے 10 فیصد انسانوں نے کمپیوٹر ماڈلز کو نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ دیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ اسے “انسان بمقابلہ مشین” کے بجائے اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ اے آئی کس طرح انسانی تخلیقی کوششوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔





