کیئر اسٹامر کی حکومت کو ایک اور بڑا دھچکا ، وزیراعظم آفس کےمیڈیا انچارج ٹم ایلن عہدے سے مستعفی ،فرانس پریس کے مطابق استعفیٰ ایک ایسےوقت میں سامنےآیا جب حکومت برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر مینڈلسن اور جنسی جرائم میں سزا یافتہ امریکی سرمایہ کارجیفری ایپسٹین کےدرمیان تعلقات کےاسکینڈل کی زد میں ہے

ٹم ایلن نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ انہوں نے “ڈاؤننگ اسٹریٹ میں نئی ٹیم کی تشکیل کی راہ ہموار کرنے کے لیے” دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ استعفا وزیر اعظم کے چیف آف اسٹاف مورگن میکسونی کے استعفے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد سامنے آیا ہے۔
مورگن میکسونی نے اتوار کے روز یہ اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیا کہ انہوں نے ہی پیٹر مینڈلسن کو واشنگٹن میں سفیر تعینات کرنے کا “مشورہ” دیا تھا، حالانکہ ان کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات تھے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے میکسونی نے کہا کہ مینڈلسن کا تقرر ایک غلطی تھی اور وہ اس مشورے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

برطانوی حکومت نے پیٹر مینڈلسن کو ستمبر 2025 میں عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد دی گئی مراعات اور مالی پیکیج کی تحقیقات کا بھی اعلان کیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق سابق سفیر کو برطرفی کے بعد 38,750 سے 55,000 پاؤنڈ کے درمیان رقم ادا کی گئی تھی۔
لیبر پارٹی کے سینئر سیاستدان پیٹر مینڈلسن کو امریکی وزارت انصاف کی جانب سے ان کے اور ایپسٹین کے گہرے تعلقات کی دستاویزات سامنے آنے کے بعد صرف 7 ماہ کی مدت میں ہی برطرف کر دیا گیا تھا۔ اب جنوری کے آخر میں جاری ہونے والی نئی دستاویزات نے کیئر اسٹامر کی حکومت کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ پیٹر مینڈلسن اس وقت ایک سکیورٹی تحقیقات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر شبہ ہے کہ جب وہ 2008 سے 2010 کے دوران گورڈن براؤن کی حکومت میں وزیر تھے، تب انہوں نے اسٹاک ایکسچینج سے متعلق اہم معلومات ایپسٹین کو فراہم کی تھیں۔ اسی سلسلے میں گذشتہ جمعہ کو مینڈلسن سے وابستہ دو مقامات کی تلاشی بھی لی گئی تھی۔





