ایران کی پاسداران انقلاب سن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم کی گئی تھی اور بعد میں آئین کا حصہ بنا دی گئی۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی حفاظت اور غیر ملکی خطرات کا سامنا کرنے کی ذمہ داری اسی خصوصی فوج کے ہاتھوں میں ہے
یورپی یونین نے ایران کے خلاف ایک بڑا سفارتی اور سیاسی قدم اٹھاتے ہوئے اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) کو باضابطہ طور پر اپنی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ ایران میں حالیہ برسوں کے دوران عوامی احتجاج کو طاقت کے ذریعے کچلنے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔
اس اہم پیش رفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
یورپی یونین کا متفقہ فیصلہ
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے جمعرات کو اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک “فیصلہ کن قدم” قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 27 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے متفقہ طور پر پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی منظوری دی ہے۔
کایا کالاس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ (X) پر سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لکھا:
> “جو حکومت اپنے ہی ہزاروں شہریوں کو قتل کرتی ہے، وہ دراصل اپنی تباہی کا راستہ خود ہموار کر رہی ہوتی ہے،
پابندیاں اور ان کے اثرات
اس فیصلے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کو اب القاعدہ، حماس اور داعش جیسے گروہوں کے برابر درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس کے دور رس نتائج درج ذیل ہو سکتے ہیں:
اثاثوں کی منجمدگی:
یورپی یونین کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام مالیاتی اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔
سفر پر پابندی:
اس تنظیم سے وابستہ اہم شخصیات کے یورپی ممالک میں داخلے پر پابندی ہوگی۔
اعلیٰ حکام پر ضرب:
یورپی یونین نے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز سمیت 15 اعلیٰ ایرانی عہدیداروں پر بھی انفرادی پابندیاں عائد کی ہیں۔
کریک ڈاؤن کے خوفناک اعداد و شمار
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے پاسدارانِ انقلاب نے انتہائی تشدد کا راستہ اپنایا۔ رپورٹس کے مطابق اب تک 6,300 سے زائد افراد ریاستی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ یورپی یونین کا موقف ہے کہ یہ تنظیم ایران میں جاری ظلم و ستم کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔

عالمی منظرنامہ اور پس منظر
پاسدارانِ انقلاب کا قیام 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد عمل میں لایا گیا تھا تاکہ ایرانی نظام کا تحفظ کیا جا سکے، جسے بعد میں ملکی آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔
امریکہ اور کینیڈا پہلے ہی اس فورس کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔
یورپی یونین کا یہ اقدام ایران کو عالمی سطح پر مزید تنہا کر سکتا ہے،ایران نے ماضی میں ایسی پابندیوں پر سخت احتجاج کیا ہے اور انہیں اپنی خودمختاری میں مداخلت قرار دیا ہے، تاہم اس حالیہ فیصلے پر ابھی تک کوئی باضابطہ سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا





