غزہ سٹی / یروشلم: غزہ میں جاری جنگ کے دو سال مکمل ہونے پر اسرائیلی فوج نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ اموات کے اعداد و شمار ’تقریباً درست‘ ہیں۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق غزہ میں جان سے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 71 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
اسرائیلی موقف میں تبدیلی

ٹائمز آف اسرائیل کےمطابق ایک سینئراسرائیلی سکیورٹی اہلکارنےتصدیق کی ہے کہ اگرچہ اموات کی حتمی تفصیلات ابھی جائزے کے مراحل میں ہیں تاہم وزارتِ صحت کے اعداد و شمار حقیقت کے قریب ہیں،یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس سے قبل 2024 میں اسرائیلی وزارتِ خارجہ ان اعداد و شمار کو گمراہ کن اور غیر معتبر‘ قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے۔
جانی نقصان کی تفصیلات
غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین ڈیٹا کے
مطابق کل اموات: جنوری 2026 تک 71,667 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

غذائی قلت: ان میں سے کم از کم 440 افراد بھوک اور شدید غذائی قلت کے باعث انتقال کر گئے۔
ملبے تلے دبے افراد: اسرائیلی فوج نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ملبے تلے دبے فلسطینی اس فہرست میں شامل نہیں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں جانی نقصان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی اداروں کی رپورٹس
اقوام متحدہ کے ادارے اوچا (OCHA) کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے 28 جنوری 2026 تک کل 71,667 فلسطینی جاں بحق اور 171,343 زخمی ہوئے
انسانی حقوق کے ادارے او ایچ سی ایچ آر (OHCHR) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فائر بندی کے باوجود، 11 اکتوبر 2025 سے 21 جنوری 2026 کے درمیان مزید 216 فلسطینی مارے گئے، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
انسانی بحران کی شدت

عالمی تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ پانی، بجلی اور طبی امداد جیسی بنیادی سہولیات کو بھی مفلوج کر دیا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔





