(تحریر:جلیل احمد خان)یہ محض ایک خبر نہیں، یہ ہمارے نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔
بھاٹی گیٹ لاہور میں پیش آنے والا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے انسان کی جان کو کاغذی کارروائی، انا اور وردی کی دھونس کے نیچے دفن کر دیا ہے۔
ایک نوجوان، غلام مرتضیٰ، اپنی بیوی اور کمسن بیٹی کو اپنی آنکھوں کے سامنے کھلے گٹر میں گرتا دیکھتا ہے۔
لاہور ہو یا کراچی، ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کا “نظام” زمین کے اوپر نہیں بلکہ گٹروں کی غلیظ تہوں میں چل رہا ہے۔ شورکوٹ سے اپنی مرادیں لے کر داتا دربار آنے والا وہ بدقسمت خاندان کیا جانتا تھا کہ لاہور کی سڑکوں پر جاری
یہ لمحہ کسی بھی انسان کے لیے قیامت سے کم نہیں۔ غلام مرتضیٰ کی24 سالہ بیوی سعدیہ اور 10 ماہ کی معصوم ردا فاطمہ کے ساتھ پیش آنیوالاواقعہ صرف ایک گٹرمیں گرنےکاواقعہ نہیں تھا، وہ ریاست کی اخلاقیات کا جنازہ تھا
ستم بالائے ستم دیکھیے! 17 گھنٹے تک ریسکیو ادارے خوابِ خرگوش میں رہے، اسے “فیک کال” قرار دے کر ٹالتے رہے، اور جب ماں بیٹی کی لاشیں میلوں دور تعفن زدہ پانی سے ملیں، تو ریاست کا دوسرا گھناؤنا چہرہ سامنے آیا
غلام مرتضیٰ مدد کی امید لے کر پولیس کے پاس جاتا ہے، مگر وہاں اسے تشدد ملتا ہے۔ انصاف نہیں ملتا، الزام ملتا ہے۔ ہمدردی نہیں، اعترافِ جرم کا دباؤ ملتا ہے۔
پولیس، جس کا کام تحفظ دینا تھا، اس نے سوگوار باپ کو تھانے لے جا کر بیلٹوں اور ڈنڈوں سے ادھ موا کر دیا۔ اس پر تشدد کیا گیا کہ وہ اعتراف کرے کہ اس نے اپنی بیوی کو خود مارا ہے۔ یعنی یہاں مرنا بھی جرم ہے اور اپنوں کی لاشیں ڈھونڈنا بھی!
مگر یہ قصہ صرف لاہور کا نہیں ہے۔ روشنیوں کے شہر کراچی میں تو گٹر موت کا سب سے بڑا نیٹ ورک بن چکے ہیں جہاں برسوں سے کھلے گٹر معصوم جانوں کو نگل رہے ہیں، مگر آج تک کسی افسر کا گریبان پکڑا گیا اور نہ ہی کوئی ذمہ دار کٹہرے میں آیا۔ کراچی کے باسی تو اب اس بات پر شکر کرتے ہیں کہ وہ صبح گھر سے نکلیں تو شام کو صحیح سلامت لوٹ آئیں۔ وہاں گٹروں کے ڈھکن یا تو “افسر شاہی” کھا گئی ہے یا پھر وہ غفلت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
یہاں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ غلطی کہاں ہوئی؟
غلطی صرف اس کھلے گٹر کی نہیں، غلطی اس سوچ کی ہے جو شہری کو مجرم سمجھ کر دیکھتی ہے، متاثرہ کو ملزم بنا دیتی ہے اور طاقت کو حق سمجھ بیٹھتی ہے۔
پولیس کو کیا کرنا چاہیے تھا؟
پولیس کا پہلا فرض یہ تھا کہ:
فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا جاتا
واسا، ٹیپا اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ کیا جاتا
واقعے کی غیر جانبدارانہ تفتیش کی جاتی
شوہر کو تحفظ دیا جاتا، نہ کہ حراست اور تشدد
لیکن یہاں الٹا ہوا۔ ایک ایس پی اور ایک ایس ایچ او نے ایک غم زدہ باپ اور شوہر کو مار پیٹ کر یہ منوانے کی کوشش کی کہ وہ قاتل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پولیس اب تفتیش نہیں، کہانیاں گھڑنے پر مامور ہے؟
ذمہ دار کون ہیں؟
ذمہ داری صرف ایک تھانے یا دو افسران پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
واسا: گٹر کھلا تھا، ڈھکن کہاں تھا؟
ٹیپا: سڑک اور سیوریج کی حفاظت کس کی ذمہ داری تھی؟
ضلعی انتظامیہ: روزانہ کی انسپکشن کہاں گئی؟
حکومت: درجنوں نئے محکمے بنا دیے گئے، مگر گٹر کے ڈھکن چیک کرنے والا کوئی نہیں
اگر ایک خاتون اور بچی دس گھنٹے بعد تین کلومیٹر دور سے ملتی ہیں، تو یہ صرف حادثہ نہیں، یہ اجتماعی غفلت ہے۔
پولیس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے؟
یہاں معافی کافی نہیں۔
متعلقہ ایس پی اور ایس ایچ او کو فوری معطل نہیں، برطرف کیا جانا چاہیے
ان پر تشدد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جھوٹا اعتراف کروانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے
یہ کیس مثال بننا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی وردی انسانیت سے اوپر نہ سمجھی جائے
حکومت کے لیے چند واضح مشورے
کھلے گٹروں پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کی جائے
واسا اور ٹیپا کے افسران کی جوابدہی کا نظام بنایا جائے
ہر تھانے میں تشدد کی شکایات کے لیے آزاد مانیٹرنگ سیل ہو
پولیس ٹریننگ میں انسانی حقوق کو محض لیکچر نہیں، عملی شرط بنایا جائے
یہ سوال اب صرف غلام مرتضیٰ کا نہیں رہا۔
یہ سوال ہر اس شہری کا ہے جو سڑک پر چلتے ہوئے کھلے گٹر سے ڈرتا ہے، اور تھانے جاتے ہوئے پولیس سے۔
اگر اس واقعے پر بھی خاموشی رہی، اگر تشدد کرنے والے افسران بچ نکلے، تو یاد رکھیں:
کل کسی اور کی بیوی ہوگی، کسی اور کی بیٹی ہوگی، اور کسی اور کا انصاف۔
اور تب لکھنے کے لیے کالم نہیں، صرف نوحے بچیں گے۔
نوٹ: درج ذیل کالم مصنف کی ذاتی رائے ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں





