
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں احتجاج ہمیشہ صرف تعداد کا محتاج نہیں رہا بلکہ اس کی اصل قوت اکثر اخلاقی برتری، علامتی مزاحمت اور ضمیر کی بیداری میں مضمر رہی ہے۔ خصوصاً پیپلز پارٹی کی جدوجہد اس حقیقت کی واضح مثال پیش کرتی ہے کہ بعض اوقات چند افراد پر مشتمل مظاہرے بھی حکمرانوں کے لیے شدید سیاسی دباؤ کا باعث بن جاتے ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں پیپلز پارٹی کے ایسے متعدد مظاہرے اور جلوس دیکھنے میں آئے جن میں شرکا کی تعداد نہایت محدود تھی، مگر ریاستی جبر، گرفتاریوں اور پابندیوں کے باوجود ان کی علامتی حیثیت اس قدر مضبوط ہوتی تھی کہ وہ قومی میڈیا میں نمایاں خبر بن جاتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ حکمرانوں کی جانب سے اختلافِ رائے کو دبانے کی تمام کوششیں ناکام دکھائی دیتیں اور ریاستی طاقت اخلاقی سطح پر کمزور پڑ جاتی۔
احتجاج کی ایک مختلف مگر مؤثر صورت دنیا کے دیگر جمہوری معاشروں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ برطانیہ میں بعض مواقع پر احتجاج کا ایک طریقہ “ضمیر کی طاقت” کے طور پر سامنے آیا، جس میں عوام نے گھروں سے باہر نکلنے کے بجائے خاموشی، عدم شرکت اور روزمرہ سرگرمیوں سے دانستہ لاتعلقی اختیار کی۔ یہ احتجاج بظاہر غیر متحرک دکھائی دیتا تھا، مگر درحقیقت یہ اجتماعی شعور اور سیاسی عدم اطمینان کا ایک طاقتور اظہار ہوتا تھا، جسے نظر انداز کرنا ریاست کے لیے ممکن نہیں رہتا۔
موجودہ سیاسی تناظر میں پاکستان تحریکِ انصاف کو مسلسل ناکام یا محدود کیے گئے احتجاجی اقدامات کے بعد اس حقیقت کا سامنا ہے کہ وہ فی الحال عوام کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر لانے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ ایسی صورتِ حال میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آیا پی ٹی آئی بھی روایتی طاقت کے مظاہرے کے بجائے ضمیر کی طاقت پر انحصار کرے گی یا نہیں۔
یہاں پیپلز پارٹی اور بالخصوص محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت کا موازنہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے شدید پابندیوں، گرفتاری کے خطرات اور محدود کارکنوں کے باوجود لانگ مارچ اور عوامی رابطے کی سیاست جاری رکھی۔ محض چند کارکنوں کے ساتھ ان کی موجودگی ہی ایک سیاسی واقعہ بن جاتی تھی، جو حکمرانوں کی کمزوری اور عوامی ہمدردی کو بے نقاب کر دیتی تھی۔ یہی وہ مجاہدانہ قیادت تھی جو احتجاج کو محض عددی طاقت کے بجائے اخلاقی اور علامتی قوت میں بدل دیتی تھی۔
اب 8 فروری، جو کہ چھٹی کا دن ہے، ایک اہم سیاسی امتحان بن کر سامنے آ رہا ہے۔ عمران خان جیل میں ہیں ان کا متبادل کوئی لیڈر نہیں جس کے باہر نکلنے پر کارکن آجائیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کس نوعیت کی حکمتِ عملی اختیار کرتی ہے تاکہ اپنا احتجاج مؤثر طور پر رجسٹر کرا سکے۔ اگر عوامی شرکت محدود بھی رہی تو کیا پارٹی ضمیر کی طاقت، علامتی مزاحمت اور سیاسی شعور کے ذریعے اپنا بیانیہ زندہ رکھ پائے گی یا نہیں، یہ آنے والا وقت ہی طے کرے گا۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ احتجاج کی کامیابی صرف ہجوم میں نہیں بلکہ اس سچائی، استقامت اور اخلاقی وزن میں ہوتی ہے جو ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔ جب ضمیر بیدار ہو جائے تو خاموشی بھی احتجاج بن جاتی ہے، اور کمزور دکھائی دینے والا عمل بھی طاقتور پیغام میں ڈھل جاتا ہے۔
نوٹ: درج ذیل کالم مصنف کی ذاتی رائے ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں





