ایران میں تاریخ ساز فیصلہ: خواتین کو موٹر سائیکل لائسنس جاری کرنے کی منظوری

ایران سے خواتین کے حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں حکومت نے برسوں سے جاری قانونی کشمکش کے بعد بالآخر خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کا باضابطہ حق دے دیا ہے۔
​اس اہم فیصلے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
قانونی ابہام کا خاتمہ اور باضابطہ لائسنس
​ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق اب خواتین باضابطہ طور پر موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر سکیں گی۔ ماضی میں قانون میں صریحاً ممانعت نہ ہونے کے باوجود حکام خواتین کو لائسنس جاری نہیں کرتے تھے، جس کے باعث حادثات کی صورت میں خواتین کو ہی قانونی طور پر قصوروار ٹھہرایا جاتا تھا۔
​ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے منگل کے روز ٹریفک کوڈ کی وضاحت سے متعلق ایک قرارداد پر دستخط کیے، جس کی منظوری کابینہ نے جنوری کے آخر میں دی تھی۔ اس قرارداد کے تحت
ٹریفک پولیس خواتین درخواست گزاروں کو عملی تربیت فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔
​پولیس کی براہ راست نگرانی میں ڈرائیونگ امتحانات منعقد کیے جائیں گے۔
​اہل خواتین کو باقاعدہ موٹر سائیکل لائسنس جاری کیے جائیں گے۔
​پس منظر اور سماجی تناظر

​یہ تبدیلی ایران میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد آئی ہے۔ یاد رہے کہ 2022 میں مہسا امینی کی دورانِ حراست موت کے بعد ایران میں خواتین نے اپنی آزادیوں کے لیے بڑے پیمانے پر آواز بلند کی تھی۔ تہران حکومت کے مطابق ان ہنگاموں میں 3,000 سے زائد اموات ہوئیں، جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔
​عوامی ردِعمل
​خواتین کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی غیر رسمی طور پر سڑکوں پر اسکوٹر اور موٹر سائیکلیں چلا رہی ہے۔ تہران کی ایک رہائشی، 33 سالہ سائنہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بہت دیر سے آیا ہے کیونکہ خواتین مہینوں سے سڑکوں پر سواری کر رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے معاشی چیلنجز کے سامنے یہ شاید معاشرے کا اصل مسئلہ نہیں ہے۔
​ڈریس کوڈ کا چیلنج
​1979 کے انقلاب کے بعد سے خواتین کے لیے عوامی مقامات پر سر ڈھانپنا اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننا لازمی ہے۔ موٹر سائیکل چلانے کے دوران ان ضوابط پر عمل درآمد ایک چیلنج رہا ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں خواتین کی بڑی تعداد نے ان پابندیوں کے باوجود 2 پہیوں والی سواری کو اپنایا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں