اقوام متحدہ کی ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستانی مؤقف کی توثیق

سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان میں طالبان حکومت میں ٹی ٹی پی کو ایسا ماحول میسر ہے کہ وہ خطے سے باہر بھی خطرہ بن سکتی ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں ایسا ماحول میسر ہے جہاں اسے اپنی سرگرمیوں اور خود کو فعال رکھنے کا موقع مل ہے جس کی وجہ سے (یو این کے) رکن ممالک میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ یہ تنظیم خطے سے باہر کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

یہ انتباہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 37ویں رپورٹ میں شامل ہے، جس میں جولائی اور دسمبر 2025 کے درمیانی عرصے کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 37ویں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ایسے شدت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جو پاکستان پر حملوں کے لیے اس کی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔
چار فروری کو جاری ہونے والی رپورٹ، جس کے اقتباسات پاکستانی میڈیا نے شائع کیے ہیں، کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی وسطی اور جنوبی ایشیا میں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں تشدد کی ایک نئی لہر جاری ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ، ’’افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں فوجی جھڑپیں ہوئیں۔ علاقائی تعلقات نازک رہے۔ داعش خراسان کے خلاف مسلسل انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے باوجود اس نے بیرونی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت اور ارادہ برقرار رکھا۔‘‘

رپورٹ کے مطابق افغان عبوری حکام کا دعویٰ تھا کہ افغانستان کی سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، تاہم ’’کسی بھی رکن ملک نے اس مؤقف کی حمایت نہیں کی۔‘‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا، ’’ افغان عبوری حکام نے داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں اور بعض دیگر گروہوں کی بیرونی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا۔ تاہم ٹی ٹی پی کو عبوری حکام کی جانب سے زیادہ آزادی اور حمایت ملی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف اس کے حملوں اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔‘‘ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں