وائٹ ہاؤس نے حساب کتاب الجھا دیا اور کئی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں
امریکااور ایران کے درمیان جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود، وائٹ ہاؤس کے حالیہ بیانات نے جنگ کے بادل گہرے کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کے لیے کئی “ٹھوس دلائل” موجود ہیں، جبکہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی فوجی نقل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی ویب سائٹ “axios” نے ان 6 وجوہات کا احاطہ کیا ہے جو ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے

1 : طویل مدتی ایٹمی تنازع
امریکی انتظامیہ برسوں سے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کا عزم ظاہر کر رہی ہے۔ تاہم اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اتحادی محض ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ ایران میں “نظام کی تبدیلی” کی خواہش رکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ فوجی کارروائی کے مقاصد پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہوں گے۔
2 : مظاہرین کا قتل
ایران کے مختلف شہروں میں حالیہ احتجاجی لہر کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت پر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ ماہ ہی حملہ کرنے والے تھے۔اس وقت فوجی صلاحیتوں کی کمی کی وجہ سے فیصلہ مؤخر کیا گیا تھا، لیکن اب خلیج میں بحری بیڑوں اور جنگی طیاروں کی موجودگی نے یہ رکاوٹ دور کر دی ہے۔
3 : چیخوف کی بندوق کا اصول

روسی ادیب چیخوف کے اصول کے مطابق اگر اسٹیج پر بھری ہوئی بندوق رکھی ہے، تو اسے چلنا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، دو بحری بیڑے اور سیکڑوں طیارے خطے میں بھیجنے کا مقصد ان کا استعمال ہی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ کسی معاہدے کے بغیر پیچھے ہٹنا ان کے مزاج کے خلاف ہے۔
4 : اسرائیل کی جانب سے دباؤ
اسرائیلی حکومت چند دنوں میں جنگ چھڑنے کی توقع کر رہی ہے اور وہ محدود حملے کے بجائے ایسی ہمہ گیر کارروائی چاہتی ہے جو ایرانی نظام کی کمر توڑ دے۔ بنیامین نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اس حوالے سے قریبی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
5 :ایرانی نظام کی کمزوری کا احساس
واشنگٹن اور تل ابیب کا خیال ہے کہ گذشتہ سال کے اسرائیلی و امریکی حملوں اور اندرونی احتجاج نے ایرانی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ اگر اب حملہ کیا گیا تو ایران کا جوابی رد عمل اتنا شدید نہیں ہوگا جتنا چند سال بعد ہو سکتا ہے۔
6 : تیل کا عنصر
عالمی منڈی میں تیل کی وافر فراہمی اور قیمتوں میں استحکام ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر ضرب لگانے کا اسٹریٹجک موقع فراہم کر رہا ہے۔ امریکی ماہرین کے مطابق اگر ایرانی برآمدات متاثر بھی ہوئیں، تو قیمتوں میں اضافہ محدود اور عارضی ہو گا اور ایران کے لیے آبنائے ہرمز بند کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کو فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے بڑے تکلیف دہ سمجھوتے کرنے ہوں گے۔ اگرچہ ایران نے یورینیئم کی افزودگی روکنے کی تجویز دی ہے، لیکن یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبات کو پورا نہیں کرتی، جو مکمل نگرانی اور ایٹمی پروگرام کے خاتمے پر اصرار کر رہے ہیں۔
(بشکریہ العربیہ)





