قاہرہ(ویب ڈیسک) مصر کے صحرا میں ایستادہ عجوبہ، ‘گیزہ کا عظیم ہرم’ (ہرمِ خوفو) ساڑھے چار ہزار سال سے اپنے اندر بے شمار اسرار چھپائے ہوئے ہے۔ حال ہی میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور سائنسدانوں نے اس حوالے سے ایسی اہم پیش رفت کی ہے

جو اس قدیم معمے کو حل کرنے کے قریب لے آئی ہے کہ آخر اس دور کے انسانوں نے 60 ٹن وزنی پتھروں کو سینکڑوں فٹ کی بلندی پر اتنی تیزی سے کیسے نصب کیا؟
اندرونی پلی سسٹم اور کاؤنٹر ویٹ کا استعمال
جرنل ‘نیچر’ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، اہرام کی تعمیر محض بیرونی ریمپ (ڈھلوانوں) کے ذریعے نہیں بلکہ ایک پیچیدہ ‘پلی میکنزم’ کے ذریعے ممکن ہوئی جو اسٹرکچر کے اندر ہی چھپا ہوا تھا۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ قدیم مصری مزدوروں نے کاؤنٹر ویٹ (وزن کے توازن) کا طریقہ کار اپنایا، جس کی مدد سے حیران کن طور پر بعض اوقات ایک منٹ میں ایک بلاک نصب کیا گیا۔

تحقیق بتاتی ہے کہ ہرم کے اندرونی حصے کی ڈھلوانیں اس خیال کو تقویت دیتی ہیں کہ پتھروں کو باہر کے بجائے اندرونی پلی سسٹم کے ذریعے اوپر کھینچا گیا، جس سے تعمیراتی عمل میں غیر معمولی تیزی آئی۔دریائے نیل کی گمشدہ شاخ کا سراغ
تعمیراتی تکنیک کے ساتھ ساتھ ایک بڑا سوال یہ بھی تھا کہ لاکھوں ٹن وزنی پتھر صحرا کے اس مقام تک پہنچائے کیسے گئے؟

مئی 2024 میں ‘نیچر کمیونیکیشنز’ میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق نے اس راز سے بھی پردہ اٹھایا۔ ماہرین نے ریڈار سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے صحرا کی ریت کے نیچے دبی ہوئی دریائے نیل کی ایک 40 میل لمبی شاخ دریافت کی ہے، جو ہزاروں سال قبل ان اہرام کے بالکل قریب سے بہتی تھی۔
دریا کا کردار: یہ شاخ گیزہ کے عظیم ہرم سے محض ایک کلومیٹر دور تھی، جس کے ذریعے ڈھائی سے 15 ٹن وزنی 23 لاکھ بلاکس کو کشتیوں کے ذریعے جائے وقوعہ تک لایا گیا۔
مختلف مقامات پر تعمیر: محققین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ دریا کا رخ بدلتا رہا، یہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار کے بادشاہوں نے دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر اہرام تعمیر کیے۔
خاتمہ: لگ بھگ 4200 سال قبل شدید قحط سالی اور ریت کے طوفانوں کے باعث یہ طاقتور دریا تاریخ کے پنوں اور صحرا کی تہوں میں روپوش ہو گیا۔

اس نئی سائنسی دریافت نے ثابت کر دیا ہے کہ قدیم مصری نہ صرف انجینئرنگ کے ماہر تھے بلکہ انہوں نے جغرافیائی حالات کا بھی بہترین استعمال کیا تھا۔





