لندن/نیویارک: برطانوی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں قیامِ امن اور تعمیرِ نو کے لیے تشکیل دیے گئے ‘بورڈ آف پیس’ میں بھارت کی شمولیت کے حوالے سے نئی دہلی شدید تذبذب اور خدشات کا شکار ہے۔ بھارتی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ کل کو اس عالمی پلیٹ فارم پر ‘مسئلہ کشمیر’ کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
بورڈ آف پیس کیا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کا بنیادی مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان مستقل جنگ بندی اور غزہ میں عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔ اب تک پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت 59 ممالک اس بورڈ کا حصہ بننے پر دستخط کر چکے ہیں، جبکہ 19 ممالک نے ڈیووس میں ہونے والی حالیہ تقریب میں شرکت کی۔
بھارتی ہچکچاہٹ اور کشمیر کا پہلو
رپورٹس کے مطابق، ڈیووس میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی، مگر انہوں نے اس سے گریز کیا۔ بھارتی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اگر وہ اس بورڈ کا حصہ بنتے ہیں، تو ڈونلڈ ٹرمپ اس ماڈل کو دیگر تنازعات پر بھی لاگو کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے حالیہ خطاب میں واضح کیا ہے کہ:
”یہ منصوبہ صرف امریکہ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے، اور میرا خیال ہے کہ ہم اسے غزہ میں کامیابی کے بعد دوسری جگہوں پر بھی پھیلا سکتے ہیں۔”
بھارتی ماہرین کی رائے
سابق بھارتی سفیر اکبر الدین کا کہنا ہے کہ بھارت کو اس بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے متصادم ہو سکتا ہے اور بھارت اس کے فیصلوں کا پابند بن سکتا ہے۔ دوسری جانب سابق بھارتی سفیر رنجیت رائے نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس بورڈ کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے مستقبل میں غزہ کے باہر کسی بھی تنازع (جیسے کشمیر) کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔





