بھوک یا کھانا کم کیے بغیر وزن گھٹانے کا آسان طریقہ

غذائی نظام کی دنیا میں اکثر وزن کم کرنے کو کھانے کی مقدار کم کرنے یا طویل عرصے تک بھوکے رہنے سے جوڑا جاتا ہے۔ لیکن ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کیلوریز کم کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم کھانے کی مقدار کم کریں، بلکہ صرف اپنی پلیٹ میں موجود کھانے کی نوعیت بدلیں

برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل کی تحقیق جو امریکی جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئی، بتاتی ہے کہ زیادہ پروسیس شدہ کھانوں کی جگہ قدرتی اور غیر پروسیس شدہ کھانے جیسے پھل، سبزیاں اور مکمل اناج استعمال کرنے سے یومیہ تقریباً 330 کیلوریز کی بچت ہو سکتی ہے، جبکہ کھانے کی مقدار کم کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ رپورٹ سائنس الرٹ ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہے۔
اس تحقیق میں 2019 میں کی گئی ایک کلینیکل ٹرائل کے ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ کیا گیا، جس میں 20 شرکاء نے ایک مہینے تک حصہ لیا۔ شرکاء نے دو مختلف غذائی نظام اپنائے: ایک قدرتی، غیر پروسیس شدہ کھانوں پر مبنی اور دوسرا زیادہ پروسیس شدہ کھانوں پر۔ دونوں نظاموں میں شرکاء کو کھانے کی مقدار کی کوئی پابندی نہیں تھی، یعنی وہ جتنا چاہیں کھا سکتے تھے۔

حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جب شرکاء نے قدرتی کھانے کھائے، تو انہوں نے وزن اور حجم کے لحاظ سے 50 فیصدسے زیادہ کھایا، لیکن کیلوریز تقریباً 330 یومیہ کم استعمال کیں، جبکہ پروسیس شدہ کھانے کھانے پر کیلوریز زیادہ تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی کھانے میں توانائی کی کم مقدار ہوتی ہے، یعنی یہ کم کیلوریز میں زیادہ پیٹ بھرنے کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ کھانے وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور بھی ہوتے ہیں، جو جسم کی غذائی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔
تحقیق میں ایک اور دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ انسان میں ایک قسم کی “فطری غذائی ذہانت” موجود ہے؛ یعنی جب ہم کھانے کو اس کی قدرتی حالت میں کھاتے ہیں تو ہم خود بخود ایسی چیزیں منتخب کرتے ہیں جو جسم کو مناسب پیٹ بھرنے اور غذائیت فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

دوسری جانب زیادہ پروسیس شدہ کھانے عموماً زیادہ کیلوریز، چربی اور شکر پر مشتمل ہوتے ہیں اور بعض اوقات ان میں مصنوعی وٹامنز شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ مرکب جسم کے سگنلز کو گمراہ کر دیتا ہے، جس سے ہم زیادہ کیلوریز لے لیتے ہیں، لیکن اصل پیٹ بھرنے کا احساس نہیں ہوتا۔

یہ تحقیق موٹاپے اور وزن بڑھنے کے مسئلے پر ایک نیا زاویہ پیش کرتی ہے۔ زیادہ کھانے کی عادت ہمیشہ زیادہ بھوک کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ کھانے کی نوعیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، جو ہمیں زیادہ کیلوریز لینے پر مجبور کرتی ہے۔ پچھلی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ پروسیس شدہ کھانوں کا زیادہ استعمال موٹاپے اور کچھ دائمی بیماریوں کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ اگر آپ کیلوریز کم کرنا چاہتے ہیں اور بھوک یا محرومی کا احساس نہیں چاہتے، تو حل کھانے کی مقدار کم کرنا نہیں بلکہ پلیٹ میں موجود کھانے کی نوعیت بدلنا ہے۔ پھل، سبزیاں، مکمل اناج اور دالیں زیادہ کھائیں اور زیادہ پروسیس شدہ کھانوں سے پرہیز کریں۔ اس سے آپ زیادہ کھانے کے باوجود کیلوریز میں روزانہ 300 سے زیادہ کمی لا سکتے ہیں۔یوں صحت مند وزن کی جانب پہلا قدم بھوک یا فاقہ سے نہیں بلکہ کھانے کو اس کی قدرتی شکل میں واپس لانے سے شروع ہوتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں