الیکٹرو لائٹ مشروبات کا بے جا استعمال، جسم کے لیے خاموش خطرہ

جسمانی ورزش ہو یا گرمی کی تپش، توانائی اور تازگی کی تلاش میں آج کل الیکٹرو لائٹ مشروبات تیزی سے لوگوں کی پہلی پسند بنتے جا رہے ہیں۔ نمکیات کی فوری تلافی اور جسم کو لمحوں میں ہائیڈریٹ کرنے کے دعوؤں کے باعث یہ مشروبات نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ عام افراد میں بھی غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔تاہم ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر ان مشروبات کی ضرورت نہیں ہوتی، ان کا حد سے زیادہ استعمال غیر متوقع طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
الیکٹرو لائٹس دراصل وہ معدنیات ہیں، جو خون، پیشاب اور پسینے میں پائی جاتی ہیں، جیسے سوڈیم، پوٹاشیم، میگنیشیم اور کیلشیم۔ یہ جسم میں سیال مادّوں کے توازن، اعصابی افعال، پٹھوں کے سکڑاؤ اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
تاہم طبی ویب سائٹ VeryWellHealth کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ الیکٹرو لائٹس ضروری ہیں، مگر ضرورت سے زیادہ مقدار جسم کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ذیل میں اس کے نمایاں خطرات بیان کیے گئے ہیں:
سوڈیم کی سطح میں اضافہ
سوڈیم جسمانی افعال کے لیے ضروری ہے، مگر اس کی زیادتی فرطِ صودیوم الدم (Hypernatremia) کی کیفیت پیدا کر سکتی ہے، جو پانی کی کمی اور سیال توازن میں بگاڑ سے جڑی ہوتی ہے۔اس کی علامات میں شدید پیاس، متلی، قے، ذہنی الجھن اور پٹھوں میں کھچاؤ شامل ہیں، جبکہ شدید صورتوں میں دورے یا بے ہوشی بھی ہو سکتی ہے۔

خون میں پوٹاشیم کی زیادتی
پوٹاشیم دل کی دھڑکن اور پٹھوں کے افعال کے لیے اہم ہے، لیکن خاص طور پر گردوں کے مریضوں میں اس کی زیادتی دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، پٹھوں کی کمزوری، سانس میں دشواری اور سینے کے درد کا باعث بن سکتی ہے۔
گردوں پر دباؤ
سوڈیم اور کیلشیم کا حد سے زیادہ استعمال گردوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے، جس سے وقت کے ساتھ گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے یا گردے میں پتھری بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ گردوں کے مریضوں کو خاص طور پر نمکیات سے بھرپور مشروبات کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔

ہاضمے کے مسائل
الیکٹرولائٹس کی زیادہ مقدار یا مناسب مقدار میں پانی کے بغیر ان مشروبات کا استعمال، اسہال، پیٹ میں پھولاؤ، معدے میں اینٹھن اور ہاضمے کی بے آرامی جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
شکر اور محرک اجزا کی موجودگی
بہت سے تجارتی الیکٹرو لائٹ مشروبات میں شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو روزانہ کی کیلوریز میں اضافہ، وزن بڑھنے اور دانتوں میں کیڑا لگنے کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔اسی طرح بعض اقسام میں کیفین بھی شامل ہوتی ہے، جو زیادہ مقدار میں بے چینی، نیند میں خلل اور دل کی دھڑکن تیز ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
بلڈ پریشر میں اضافہ
سوڈیم کی بلند مقدار کے باعث یہ مشروبات ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں یا نمک کے لیے حساس افراد میں فشارِ خون بڑھا سکتے ہیں، اس لیے روزانہ استعمال کے لیے یہ مناسب انتخاب نہیں سمجھے جاتے۔

الیکٹرو لائٹ مشروبات کب مفید ہوتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق ان مشروبات کا استعمال صرف مخصوص حالات میں مفید ہے، جیسے:
ایک گھنٹے سے زیادہ دورانیے کی سخت جسمانی سرگرمی کے دوران شدید پسینہ آنا
پ
بیماری کی صورت میں قے، اسہال یا بخار
انتہائی گرمی میں نمکیات کا زیادہ اخراج
عام حالات میں پانی اور سبزیوں و پھلوں پر مشتمل متوازن غذا الیکٹرولائٹس کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں