اندھیرا ہوتا سیل اور دھندلاتی بینائی

تجزیاتی رپورٹ:
اڈیالہ جیل میں عمران خان کے شب و روز اور طبی صورتحال
پس منظر:
اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کی زندگی اور جیل میں فراہم کردہ سہولیات کے حوالے سے حالیہ عدالتی معائنے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف ان کے معمولات بلکہ ان کی تیزی سے گرتی ہوئی صحت، بالخصوص بینائی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔
کلیدی مشاہدات:
صحت و بینائی :
دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی ہے۔ اکتوبر 2025 تک نظر 6/6 تھی، مگر اب مسلسل دھندلاہٹ کی شکایت ہے۔

روزمرہ معمولات
تلاوتِ قرآن، محدود آلات کے ساتھ ورزش، چہل قدمی اور مطالعہ۔
رہائش (سیل)
ساڑھے 4 فٹ کا ٹوائلٹ، چھت والا پنکھا، بلوور ہیٹر، 3 بلب، بیڈ، کرسی اور میز۔
خوراک
ناشتے میں کافی، دلیہ اور کھجور۔ دوپہر کا کھانا گھر سے آتا ہے (مرغی، گوشت، دال یا پھل)۔
سیکیورٹی
کمپاؤنڈ میں 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔ عمران خان نے اپنی سیکیورٹی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے|
تجزیہ:
رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ بنیادی سہولیات (کتابیں، ٹی وی، ورزش کا سامان) فراہم کی گئی ہیں، مگر ان کی کوالٹی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ مثلاً، سیل میں موجود ٹی وی خراب پایا گیا اور کرسی غیر آرام دہ تھی۔ سب سے تشویشناک پہلو طبی غفلت ہے، جہاں بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بینائی متاثر ہوئی۔

اڈیالہ جیل کی اونچی دیواروں کے پیچھے پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا نام اس وقت کن حالات میں ہے؟ یہ سوال ہر عام و خاص کی زبان پر رہتا ہے۔ حالیہ جیل رپورٹ نے اس تجسس کو ایک نئی اور کسی حد تک تشویشناک سمت دے دی ہے۔
پانی پی ٹی آئی جو کبھی اپنی فٹنس اور جفاکشی کے لیے مشہور تھے، آج قیدِ تنہائی کے اس مرحلے میں ہیں جہاں ان کا سب سے بڑا اثاثہ “کتاب” اور “تلاوتِ قرآن” ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہ دن کا آغاز کافی اور کھجور سے کرتے ہیں اور اپنا زیادہ وقت مطالعے میں گزارتے ہیں۔ ان کے سیل میں موجود 100 سے زائد کتابیں ان کی فکری مصروفیت کی گواہی دیتی ہیں۔
لیکن اس رپورٹ کا سب سے لرزہ خیز حصہ ان کی بینائی سے متعلق ہے۔ ایک شخص جو چند ماہ پہلے تک مکمل صحت مند نظر (6/6) رکھتا تھا، آج اپنی ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی کھو چکا ہے۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ جیل انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بارہا شکایات کے باوجود بروقت ماہرِ امراضِ چشم کو رسائی نہ دینا ایک ایسی کوتاہی ہے جس کا ازالہ شاید اب ممکن نہ ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں سیاسی محاذ پر طوفان برپا ہے، وہیں جیل کے اندر عمران خان نے اپنی حفاظت پر اطمینان ظاہر کیا ہے، مگر سہولیات کی کمی (جیسے خراب ٹی وی اور غیر آرام دہ کرسی) اور قیدِ تنہائی ان کے اعصاب کا امتحان لے رہی ہے۔
کیا ایک سابق وزیراعظم کو وہ طبی حقوق مل رہے ہیں جن کا قانون تقاضا کرتا ہے؟ یا پھر “سیاسی قیدی” ہونے کی قیمت انہیں اپنی صحت کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ایوانوں میں گونجتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں