جیفری ایپس ٹین مر کر بھی دنیا کے طاقتور ترین ایوانوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔ حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی “ایپس ٹین فائلز” نے ثابت کر دیا ہے کہ پرتعیش طرزِ زندگی اور سماجی خدمات کے لبادے میں دنیا کے ‘بڑے نام’ کس حد تک اخلاقی پستی کا شکار تھے۔ 30 لاکھ صفحات اور ہزاروں ویڈیوز پر مشتمل یہ دستاویزات محض کاغذ کا ڈھیر نہیں، بلکہ عالمی اشرافیہ کے مکروہ چہروں سے نقاب کشائی کا ایک ایسا طوفان ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

طاقتوروں کا گرو اور ‘موساد’ کا مبینہ گٹھ جوڑ
1953 میں پیدا ہونے والا ایپس ٹین، جس نے ایک معمولی سکول ٹیچر سے اپنے سفر کا آغاز کیا، محض دولت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اثر و رسوخ کی بنیاد پر “کنگ میکر” بن بیٹھا۔ اس کے نجی جزیرے ‘لٹل سینٹ جیمز’ پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا نام بھی جڑا ہوا ہے۔ انکشافات کے مطابق ایپس ٹین کی قریبی ساتھی گیسلین میکسویل کے والد، رابرٹ میکسویل، موساد کے اہم ایجنٹ تھے، جس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ اس جزیرے کو عالمی رہنماؤں کی بلیک میلنگ اور جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
فہرست میں شامل ‘بڑے نام’

ان دستاویزات نے کسی کو نہیں بخشا، جن میں درج ذیل ناموں نے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے:
سیاسی شخصیات: ڈونلڈ ٹرمپ، بل کلنٹن، شہزادہ اینڈریو، ٹونی بلیئر۔
ٹیکنالوجی اور سائنس:
مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس اور معروف آنجہانی سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ۔
الزام: کم عمر لڑکیوں کی سپلائی اور جنسی استحصال کا ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک۔
ایپسٹین کی ای میلز میں ‘عمران خان’ کا ذکر
اسکینڈل کا ایک سنسنی خیز پہلو پاکستان سے جڑا ہے۔ ایپس ٹین نے اپنی ایک ای میل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو روسی صدر پیوٹن اور ایرانی سپریم لیڈر سے بھی بڑا ‘خطرہ’ قرار دیا تھا۔ ای میل کے مطابق ایپس ٹین عمران خان کی جانب سے اس کے قریبی دوست جمی گولڈ سمتھ کی بیٹی (جیمائما) کا مذہب تبدیل کرانے پر نالاں تھا، جو اس کی ذاتی دشمنی یا نظریاتی اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔
انجام اور ابھرتے ہوئے سوالات
2019 میں جیل میں ایپس ٹین کی پراسرار موت کو اگرچہ ‘خودکشی’ قرار دیا گیا، لیکن فائلز کے حالیہ

انکشافات نے اسے ایک ‘منظم قتل’ کے شک میں بدل دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر کا اچانک منظر عام پر آنا اور سفارتی دباؤ، دراصل موساد کی اس بلیک میلنگ پالیسی کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنا ہے۔
نتیجہ:

ایپس ٹین فائلز نے ثابت کر دیا ہے کہ مغرب کے ‘انسانی حقوق’ کے علمبرداروں کے پیچھے ایک ایسی تاریک دنیا آباد ہے جہاں معصوم زندگیاں عالمی مفادات کی بھینٹ چڑھائی جاتی رہی ہیں۔





