القابات کی سیاست اور نوجوان ووٹرز


پاکستانی سیاست میں القابات کی روایت بڑی قدیم ہے۔ کبھی کوئی “انقلابی” کہلاتا ہے، کبھی “جمہوری”، اور کبھی سیدھا سادہ “جیالا”۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں ایک نیا اعزاز سامنے آیا: “یوتھیا”۔ یہ وہ خطاب ہے جو عمران خان کے چاہنے والوں کو بڑے تپاک سے دیا گیا، خاص طور پر نواز شریف کی جماعت کے حامیوں کی طرف سے۔
شروع شروع میں یہ لفظ طنز تھا، پھر طعنہ بنا، اور اب باقاعدہ سیاسی شناخت کی طرح استعمال ہونے لگا ہے۔ گویا سیاست میں نظریہ بعد میں آتا ہے، لقب پہلے۔پنیری سے پودا اور پھر درخت
کہتے ہیں کسان اگر وقت پر بیج بو دے تو فصل خود بولتی ہے۔ خان صاحب نے بھی کچھ ایسا ہی کیا۔ دو ہزار میں پیدا ہونے والا بچہ جب 2018 میں ووٹر بنا تو وہ محض شناختی کارڈ نہیں بلکہ ایک بیانیہ بھی ساتھ لایا۔ سوشل میڈیا اس کا مدرسہ تھا، یوٹیوب اس کی یونیورسٹی، اور ٹوئٹر اس کا جلسہ گاہ۔
ادھر مخالفین بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے۔ لیپ ٹاپ سکیمیں آئیں، وظائف آئے، تصویریں بنیں۔ مگر نوجوان کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ آیا تو اس نے سرچ بھی خود ہی کر لیا۔ نتیجہ یہ کہ 2018 اور پھر 2024 کے انتخابات نے بڑی جماعتوں کو چونکا دیا۔
یوتھیا بمقابلہ جین زی
اب صورتحال یہ ہے کہ وہی جماعتیں جو کل تک “یوتھیا” کہہ کر دل بہلاتی تھیں، آج خود نوجوانوں کی محبت میں گرفتار نظر آتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے دورے، سوشل میڈیا کی مہمات، اور نئی اصطلاحات کا اجرا “جین زی”۔
گویا لفظ بدلو، نسل اپنی ہو جائے گی۔
پنجاب کی خاتون وزیر اعلیٰ (جو مخالفین کو سخت القابات سے نوازنے میں مہارت رکھتی ہیں) نوجوانوں کو بڑے پیار سے مخاطب کرتی ہیں۔ شاید انہیں معلوم ہے کہ بزرگ ووٹر تو اپنے اپنے خیموں میں مستقل پتھر ہو چکے ہیں۔ اب معرکہ اس نئی نسل کا ہے جو کل تک یوتھیا تھی، آج جین زی ہے، اور کل شاید کچھ اور ہو جائے۔
سوال معتبر یا تحقیر؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوان وہی ہے، اس کی عمر وہی ہے، اس کے خواب وہی ہیں۔ صرف سیاسی چشمہ بدلتا ہے تو اس کا نام بدل جاتا ہے۔ اگر وہ ایک جماعت کے ساتھ ہو تو “یوتھیا”، دوسری کے ساتھ ہو تو “باشعور جین زی”۔
سیاست کا کمال یہی ہے کہ لفظوں سے کردار تراش لیے جاتے ہیں۔
بنگلہ دیش ہو یا پاکستان، اعداد و شمار بہت متاثر کن نہیں۔ مگر ہر جماعت کا دعویٰ یہی ہے کہ نوجوان اس کے ساتھ ہے۔ شاید اصل مقابلہ نظریات کا کم اور اصطلاحات کا زیادہ ہے۔
آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے:
کیا نئی قوم یوتھ بھی کل کو کسی نئے طنزیہ خطاب کا شکار بنے گی؟ یا “جین زی” کا لیبل اسے وہ عزت دے گا جو “یوتھیا” نہ دے سکا؟
فی الحال تو نوجوان مسکرا رہا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ سیاست دان بدلتے رہتے ہیں، القابات بدلتے رہتے ہیں، مگر ووٹ کی پرچی وہی رہتی ہے اور جس دن وہ پرچی خاموشی سے باکس میں گرتی ہے، اس دن نہ یوتھیا یاد رہتا ہے نہ جین زی صرف نتیجہ بولتا ہے۔
نوٹ:
زیر نظر کالم قارئین کی معلومات کے لیے ہے،ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں